
فائل تصویر بشکریہ سوشل میڈیا
ہندوستان میں کمر توڑ مہنگائی کے درمیان عام آدمی کو آج اس وقت شدید جھٹکا لگا جب ’امول‘ نے پورے ہندوستان میں دودھ کی قیمت 2 روپے فی لیٹر بڑھانے کا اعلان کر دیا۔ نئی شرحیں 14 مئی سے نافذ ہو جائیں گی۔ ’امول‘ برانڈ کے تحت اپنی مصنوعات فروخت کرنے والے گجرات کو آپریٹو ملک مارکیٹنگ فیڈریشن نے بڑھتے خرچ کو اس اضافہ کی وجہ بتایا ہے۔ اس اضافہ کے بعد ہر عام آدمی کی جیب پر بوجھ پڑے گا، کیونکہ دودھ ہر گھر میں روزانہ استعمال کیا جاتا ہے۔
’امول‘ دودھ کی قیمت میں اضافہ کے بعد کانگریس نے حملہ آور رخ اختیار کیا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے اسے ’وصولی‘ قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ جاری کردہ پوسٹ میں کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’مہنگائی مین مودی کا چابک پھر چلا ہے۔ کل سے آپ کو امول دودھ کے لیے 2 روپے زیادہ ادا کرنے ہوں گے۔‘‘ اس پوسٹ کے آخر میں لکھا گیا ہے ’’نریندر مودی کی وصولی جاری ہے۔‘‘
بہرحال، امول دودھ کے الگ الگ پروڈکٹ کی قیمت میں 1 سے 3 روپے تک اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد امول تازہ کے نصف لیٹر دودھ کے پیکٹ کی قیمت 28 روپے سے بڑھ کر 29 روپے ہو جائے گی۔ امول تازہ ایک لیٹر دودھ کا پیکٹ 55 روپے کی جگہ 57 روپے میں ملا کرے گا۔ امول ٹی اسپیشل ایک لیٹر دودھ کی قیمت بھی 63 روپے سے بڑھ کر 66 روپے ہو جائے گی۔ اسی طرح بھینس کے دودھ کے نصف لیٹر کی قیمت 37 روپے سے بڑھ کر 39 روپے ہوگی اور امول گولڈ نصف لیٹر دودھ کی قیمت 34 روپے سے بڑھ کر 35 روپے ہو جائے گی۔ امول شکتی کے نصف لیٹر دودھ کی قیمت بھی 34 روپے سے بڑھ کر 35 روپے ہوگی۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined