
گورو گوگوئی / آئی اے این ایس
جورہاٹ: آسام کی نوگاؤں لوک سبھا نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب سے قبل ریاست میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے اس انتخاب کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیاست کے خلاف عوامی حوصلے کی آزمائش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اصل مقابلہ بی جے پی اور کانگریس کے درمیان ہوگا۔
گورو گوگوئی نے پیر کو آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نوگاؤں کا انتخاب اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ بی جے پی کی خوف اور دھمکانے کی سیاست کامیاب ہوتی ہے یا پھر بی جے پی کے خلاف عوام کا حوصلہ سامنے آتا ہے۔
گوگوئی نے مزید کہا کہ کانگریس کو پورا یقین ہے کہ نوگاؤں کے لوگ پیدا کیے جا رہے خوف کے ماحول کو مسترد کر دیں گے۔ کانگریس رہنما نے کہا کہ آج کے دور میں لوگ خود کو محض ووٹر کے طور پر نہیں بلکہ شہری کی حیثیت سے دیکھتے ہیں اور حکومت سے اپنے حقوق اور احترام کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ان کے مطابق عوام اب خوف اور دھمکی کی سیاست کو قبول کرنے کے بجائے اپنے شہری حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔
کانگریس کی جانب سے امیدوار کے اعلان کے سوال پر گوگوئی نے کہا کہ ان کے خیال میں پارٹی کو اپنے باضابطہ امیدواروں کے نام کا اعلان کر دینا چاہیے۔
نوگاؤں لوک سبھا نشست کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پردیوت بوردولوئی کے استعفے کے بعد خالی ہوئی ہے۔ اس نشست پر ضمنی انتخاب کے لیے بی جے پی نے اپنے امیدوار کے نام کا اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی نے دیباشیش شرما کو نوگاؤں سے اپنا امیدوار بنایا ہے۔ انتخابی پروگرام کے مطابق نوگاؤں لوک سبھا نشست پر 6 اکتوبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 9 اکتوبر کو ہوگی۔
کانگریس نے اب تک نوگاؤں نشست کے لیے اپنے امیدوار کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔ تاہم، گورو گوگوئی کے بیان سے واضح ہے کہ پارٹی اس ضمنی انتخاب کو بی جے پی کے خلاف ایک اہم سیاسی مقابلے کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ کانگریس رہنما نے اس انتخاب کو عوام کے لیے اپنے حقوق، احترام اور جمہوری حوصلے کا اظہار کرنے کا موقع قرار دیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔