
چوہان بانگر واقع قدیمی مندر / تصاویر محمد تسلیم
نئی دہلی: دہلی کے سیلم پور اسمبلی حلقے کے چوہان بانگر علاقے میں واقع ایک قدیم مندر کی زمین پر قبضے اور تعمیر کی کوشش کے خلاف مقامی مسلمان سامنے آئے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مندر کی جگہ کو کسی بھی طرح کی تعمیر یا فروخت سے محفوظ رکھا جانا چاہیے، تاکہ علاقے میں مذہبی ہم آہنگی برقرار رہے اور مستقبل میں کسی نئے تنازعہ کی صورت پیدا نہ ہو۔
چوہان بانگر میں واقع یہ مندر تقریباً 150 سے 200 سال پرانا بتایا جاتا ہے۔ مقامی سطح پر اسے ’مائی کا مندر‘ اور ’بھولے بابا کا مندر‘ بھی کہا جاتا ہے۔ مندر تقریباً 630 گز زمین پر واقع ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے اور اس کے احاطے میں پیپل کا ایک قدیم اور تناور درخت بھی موجود ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق مندر کی زمین پر وقتاً فوقتاً تعمیرات کے ذریعے قبضہ کرنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ اس زمین پر فلیٹ تعمیر کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ گزشتہ اتوار کو بھی مندر کے احاطے میں موجود پیپل کے درخت کی کٹائی کی کوشش کی گئی، جس کے بعد مقامی لوگ موقع پر پہنچے اور درخت کاٹنے کا کام رکوا دیا گیا۔ اس دوران ایڈووکیٹ رخسار احمد اور ایڈووکیٹ ندیم الزماں بھی موقع پر پہنچے اور انہوں نے درخت کی کٹائی رکوانے میں کردار ادا کیا۔
اس پورے معاملے پر مقامی رکن اسمبلی چودھری زبیر احمد نے کہا کہ یہ مندر تقریباً 150 سے 200 سال پرانا ہے اور یہ علاقہ ماضی میں ایک گاؤں ہوا کرتا تھا۔ ان کے مطابق پہلے دیہات میں لوگ مندروں کی تعمیر کروا کر انہیں عوام کے لیے وقف کر دیا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کچھ برسوں سے اس جگہ کو ذاتی ملکیت قرار دے کر یہاں فلیٹ تعمیر کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔
چودھری زبیر احمد نے بتایا کہ تقریباً چار سال قبل بھی اس جگہ پر تعمیراتی نقشہ منظور کرانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس وقت وہ کونسلر تھے اور ان کے مطابق مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر اس معاملے کو اٹھایا گیا، جس کے بعد نقشہ منسوخ ہوا۔
رکن اسمبلی نے کہا کہ مندر کی جگہ پر فلیٹ تعمیر کیے جانے کی مخالفت کی ایک اہم وجہ مستقبل میں پیدا ہونے والا ممکنہ تنازعہ بھی ہے۔ ان کے مطابق اگر مندر کی زمین فروخت کر کے وہاں فلیٹ تعمیر کیے گئے تو ممکن ہے کہ بعد میں ان فلیٹوں میں رہائش اختیار کرنے والے زیادہ تر لوگ مسلمان ہوں۔ ایسی صورت میں مستقبل میں یہ الزام لگایا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں نے مندر کی جگہ پر قبضہ کرکے وہاں فلیٹ تعمیر کر لیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، لیکن مقامی لوگ چاہتے ہیں کہ مندر اپنی جگہ برقرار رہے۔ ان کے مطابق مذہبی مقام کو ختم کرکے وہاں رہائشی تعمیرات کرنا مستقبل میں غیر ضروری تنازعہ کو جنم دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی لوگ مندر کی جگہ پر قبضہ نہیں ہونے دیں گے اور معاملہ حکومت تک لے جایا جائے گا۔
ایڈووکیٹ رخسار احمد نے بھی الزام لگایا کہ مندر کے احاطے میں موجود پیپل کے درخت کی کٹائی کی کوشش کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ زمین کی ملکیت سے متعلق جو بھی دعوے کیے جا رہے ہیں، ان کا فیصلہ قانونی دستاویزات اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی مقامات کی ملکیت سے متعلق قانونی اصولوں کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔
رخسار احمد کے مطابق وہ اس معاملے میں بے ضابطگیوں کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے اور اگر کسی سرکاری محکمے کی جانب سے قانون کے خلاف کارروائی سامنے آتی ہے تو اسے بھی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ چوہان بانگر میں مندر کی موجودگی علاقے کی پرانی تاریخ کا حصہ ہے اور اس کی حفاظت کسی ایک مذہب نہیں بلکہ پورے علاقے کی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق زمین کی ملکیت سے متعلق تنازعہ کا فیصلہ قانونی طریقے سے ہونا چاہیے، تاہم قدیم مندر کی جگہ کو کسی بھی غیر قانونی تعمیر یا فروخت سے محفوظ رکھا جانا ضروری ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔