
الیکشن کمیشن آف انڈیا
الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال میں 2,100 سے زیادہ پولیس اہلکاروں کو حکمراں ٹی ایم سی سے براہ راست یا بالواسطہ طور پر جڑے تقریباً 1,000 افراد کی سیکورٹی کے لیے تعینات کیے جانے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور پولیس سربراہ سے اس انتظام کا جائزہ لینے کو کہا ہے۔ مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات 2 مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو ہوں گے اور ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی۔
Published: undefined
الیکشن کمیشن (ای سی) کے عہدیداروں نے کہا کہ 15 مارچ کو انتخابات کے اعلان سے پہلے، مغربی بنگال حکومت نے ٹی ایم سی سے براہ راست جڑے 832 افراد اور پارٹی حامیوں سمیت 144 دیگر افراد کو سیکورٹی فراہم کرنے کے لیے 2,185 پولیس اہلکار تعینات کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی اتھارٹی نے اس ’کوتاہی‘ کو ’سنجیدگی سے‘ لیا ہے اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو ہدایت دی ہے کہ وہ آئندہ 2 سے 3 دنوں کے اندر ذاتی سیکورٹی کے لیے پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کا ’غیر جانبدارانہ اور منصفانہ‘ طریقے سے ایک سخت پیشہ ورانہ جائزہ لیں۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ مغربی بنگال کے انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد کئی بڑے انتظامی اقدامات کیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے ریاست کے کئی سینئر افسران کو ہٹایا ہے، جن میں چیف سکریٹری، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی)، ہوم سکریٹری، کولکاتا پولیس کمشنر اور ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (لاء اینڈ آرڈر) شامل ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے کہا تھا کہ ان اقدامات کا مقصد بغیر کسی لالچ کے اور پرامن انتخابات کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سینئر افسران کے تبادلے اور تقرریاں انتخابی عمل میں غیر جانبداری برقرار رکھنے کی کمیشن کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
Published: undefined
اس دوران الیکشن کمیشن مغربی بنگال میں تقریباً 2.4 لاکھ سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز کے جوانوں کو تعینات کرنے جا رہا ہے، جو انتخابات کے دوران کسی ایک ریاست میں اب تک کی سب سے بڑی تعیناتی ہوگی۔ افسران کے مطابق الیکشن کمیشن نے انتخابات کے بعد ایک تفصیلی سیکورٹی پلان بھی تیار کیا ہے۔ 29 اپریل 2026 کو ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد تقریباً 200 سی اے پی ایف کمپنیاں الیکٹرانک ووٹنگ مشین، اسٹرانگ روم اور کاؤنٹنگ سینٹرس کی سیکورٹی کے لیے ریاست میں اس وقت تک تعینات رہیں گی جب تک گنتی کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا۔ اس کے علاوہ اگلے حکم تک 500 سی اے پی ایف کمپنیاں نظامِ قانون برقرار رکھنے کے کام میں مصروف رہیں گی۔
Published: undefined
یہ فیصلہ مالدہ ضلع میں حال ہی میں پیش آئے ایک واقعہ کے بعد کیا گیا ہے، جہاں عدالتی افسران کو مبینہ طور پر گھیر لیا گیا تھا، جس سے سیکورٹی انتظامات پر سنگین خدشات پیدا ہوئے تھے۔ سپریم کورٹ نے اس واقعہ پر سخت نوٹس لیا اور حکام کو عدالتی افسران کے لیے مناسب سیکورٹی یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ اس کے بعد الیکشن کمیشن نے معاملہ تحقیقات کے لیے نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی (این آئی اے) کو سونپ دیا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined