
علامتی تصویر / اے آئی
رام مندر میں چندہ اور نذرانہ کی گنتی پر مامور 20 سے زائد ملازمین نے اجتماعی طور پر کام چھوڑ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان پر کام کا بوجھ تو بڑھا دیا گیا، لیکن اس کے مطابق ادائیگی نہیں کی گئی۔ اسی بات پر ناراض ہو کر ان تمام ملازمین نے بڑے پیمانے پر استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب چندہ کی گنتی پہلے کی طرح 2 شفٹوں کی جگہ صرف ایک ہی شفٹ میں ہو سکے گی۔ پہلے صبح 8 بجے سے دوپہر 2 بجے تک اور دوپہر 2 بجے سے رات 8 بجے تک 2 شفٹوں میں نذرانے کی گنتی کی جاتی تھی۔
بتایا جا رہا ہے کہ چندہ اور نذرانہ کی گنتی کے لیے عملہ کی کمی کے باعث اب صرف ایک ہی شفٹ مقرر کی گئی ہے، جس کا وقت صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک رکھا گیا ہے۔ کئی ملازمین کے استعفوں کے بعد دوسری شفٹ اور پہلی شفٹ کے باقی ماندہ ملازمین کو ایک ہی ٹیم میں ضم کر دیا گیا ہے۔ اس طرح اب ٹیم میں صرف 15 سے 16 افراد رہ جائیں گے۔ جب تک نئے افراد ٹیم میں شامل نہیں ہوتے، یہی انتظام برقرار رہے گا۔ اس دوران باقی ماندہ ملازمین پر کام کا بوجھ بھی بڑھ جائے گا۔ ذرائع کے مطابق، آج سے دوسری شفٹ میں کام کرنے والے ملازمین کو بھی صبح 10 بجے ہی طلب کیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ رام مندر میں نذرانے کی چوری کا معاملہ اس وقت سرخیوں میں ہے اور اس معاملے میں ایس آئی ٹی جیسے جیسے اپنی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر رہی ہے، ویسے ویسے حیران کرنے والے انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔ ایس آئی ٹی کے مطابق ملزمین چوری شدہ نذرانے کی رقم کا ایک حصہ شیئر بازار میں سرمایہ کاری کر کے منافع کمانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اس کے علاوہ کچھ رقم وہ لوگوں کو سود پر قرض بھی دیتے تھے۔ پولیس اب اس پہلو سے بھی ملزمین کے جاننے والوں کے بینک اکاؤنٹس کی جانچ کر رہی ہے۔
ایس آئی ٹی نے اپنی تحقیقات میں پایا ہے کہ 2 اہم عہدیداروں، جن میں ٹرسٹ کے سابق رکن انل مشرا اور کاؤنٹنگ انچارج سبھاش شریواستو شامل ہیں، نذرانے کے انتظام میں نہایت اہم کردار ادا کرتے تھے۔ تحقیقات کے مطابق، ان دونوں نے حفاظتی ضابطوں پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد نہیں کرایا، جس کے باعث مندر میں آنے والے نذرانے کی چوری اور خرد برد ممکن ہو سکی۔
ایس آئی ٹی کے مطابق انل مشرا ٹرسٹ کے مالی معاملات اور نذرانے سے متعلق تمام سرگرمیوں کے مرکزی ذمہ دار تھے۔ وہ مالیاتی امور کی نگرانی کرتے تھے، نقد رقم جمع کرنے کے عمل پر نظر رکھتے تھے اور بینک کے ساتھ نذرانے کی گنتی اور جمع کرانے کے معیاری طریقۂ کار تیار کرنے میں بھی ٹرسٹ کی نمائندگی کرتے تھے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے یہ ان کی براہِ راست ذمہ داری تھی کہ طے شدہ حفاظتی ضابطوں پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
ایس آئی ٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انل مشرا کو اندرونی ذرائع سے معلوم ہو چکا تھا کہ ملازمین کی لازمی تلاشی نہیں لی جا رہی۔ اس کے باوجود انہوں نے نہ تو قواعد پر عمل درآمد کے لیے کوئی تحریری ہدایت جاری کی اور نہ ہی سیکورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے کوئی مؤثر اقدام کیا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے بایومیٹرک حاضری، لازمی ڈریس کوڈ، گنتی کے کمرے میں ذاتی سامان لے جانے پر پابندی، ہنڈی وار نذرانے کی گنتی، نوٹوں کی مالیت کے مطابق دستاویزی ریکارڈ اور روزانہ رپورٹنگ جیسے اہم حفاظتی اقدامات پر بھی عمل درآمد نہیں کرایا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔