
ویڈیو گریب
نئی دہلی: کانگریس نے مانسون اجلاس کے دوران وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی ایوان میں غیر حاضری کو نمایاں کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پورے اجلاس میں ڈری اور سہمی ہوئی نظر آئی۔ کانگریس کے لوک سبھا ڈپٹی لیڈر گورو گوگوئی اور راجیہ سبھا رکن و پارٹی کے شعبۂ مواصلات کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے مشترکہ پریس کانفرنس میں اجلاس کے دوران اٹھائے گئے مسائل اور اپوزیشن کی حکمت عملی پر گفتگو کی۔
گورو گوگوئی نے کہا کہ انہوں نے کئی پارلیمانی اجلاس دیکھے ہیں، لیکن کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ حکومت پورے اجلاس کے دوران اس قدر ’’ڈری ہوئی اور سہمی ہوئی‘‘ ہو۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ بیشتر وقت ایوان کی کارروائی سے دور رہے۔
گوگوئی نے بتایا کہ اپوزیشن نے اجلاس کے آغاز سے قبل ہی نیٹ امتحان، ایودھیا رام مندر ٹرسٹ کے چندے، ایتھنول میں ملاوٹ، بعض بی جے پی حکومتوں سے متعلق معاملات، چین سے متعلق خارجہ پالیسی اور سرکاری بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں معیار جیسے مسائل اٹھانے کی بات حکومت کے سامنے رکھی تھی۔ ان کے مطابق اپوزیشن نے حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے بلوں پر مثبت کردار ادا کرنے کی بات بھی کہی، لیکن ان اہم مسائل پر بحث نہیں ہو سکی۔
پیپر لیک اور طلبہ کے احتجاج سے متعلق بحث کا ذکر کرتے ہوئے گوگوئی نے کہا کہ کانگریس کی جانب سے وزیر تعلیم کے استعفے، پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ کے بیان اور وزیراعظم کی جانب سے افسوس کے اظہار کی بات رکھی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان میں وزیر تعلیم کے استعفے سے متعلق مطالبہ پورا ہوا، جبکہ وزیر داخلہ بحث کے دوران ایوان میں موجود نہیں تھے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے مختلف رہنماؤں نے طلبہ اور پولیس کارروائی سے متعلق اپنے خیالات ایوان میں رکھے، لیکن وزیر داخلہ کی جانب سے مطلوبہ بیان سامنے نہیں آیا۔ گوگوئی نے کہا کہ بعد میں وزیر داخلہ کی جانب سے بحث کی بات کی گئی، جبکہ متعلقہ بحث پہلے ہی ہو چکی تھی۔
جے رام رمیش نے مانسون اجلاس کو ’’واش آؤٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے 2015 کے مانسون اجلاس کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ 2015 میں ویاپم کے معاملے پر مانسون اجلاس متاثر ہوا تھا اور 11 سال بعد 2026 میں نیٹ اور این ٹی اے سے متعلق مسائل کے دوران ایسی ہی صورت حال سامنے آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 11 سال میں قوانین اور وعدوں کے باوجود بنیادی مسائل میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی۔
رمیش نے اجلاس کے دوران اپوزیشن کی پانچ اہم کامیابیوں کی نشاندہی کی۔ ان کے مطابق ون نیشن، ون الیکشن سے متعلق بل اس اجلاس میں نہیں آیا اور اسے سرمائی اجلاس تک مؤخر کیا گیا۔ ترقی یافتہ بھارت شکشا ادھشٹھان بل کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ بھی مؤخر ہوئی۔
انہوں نے آئین کی 130ویں ترمیم سے متعلق وزرائے اعلیٰ اور وزراء کی خودکار برطرفی کے بل کو بھی آئندہ اجلاس تک مؤخر کیے جانے کو اہم پیش رفت قرار دیا۔ ان کے مطابق ایف سی آر اے ترمیمی بل کو مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیجا گیا، جبکہ حد بندی سے متعلق آئینی ترمیم کے لیے مطلوبہ دو تہائی اکثریت بھی حکومت حاصل نہیں کر سکی۔
رمیش نے مائنز اینڈ منرلز ترمیمی بل اور نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن ترمیمی بل کی منظوری پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں بلوں سے ریاستی حکومتوں کے اختیارات اور وفاقی ڈھانچے سے متعلق سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان قوانین کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیے جانے کا امکان ہے۔
انہوں نے انڈین اسٹیٹسٹیکل انسٹی ٹیوٹ ترمیمی بل کو اسٹینڈنگ کمیٹی بھیجے جانے کو بھی اپوزیشن کے دباؤ کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ کمیٹی میں طلبہ، اساتذہ، ماہرین اور متعلقہ اداروں سے بات چیت کے بعد بل پر مزید غور کیا جا سکتا ہے۔
رمیش نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے فلور لیڈروں نے 18 دن تک مسلسل ملاقاتیں کیں اور مشترکہ حکمت عملی طے کی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ بھی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ رابطہ برقرار رہے گا۔
آئندہ کی حکمت عملی کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ 19 اگست کو کانگریس ورکنگ کمیٹی کا اجلاس ہوگا، جس میں آئندہ تین ماہ کے سیاسی، اقتصادی اور سماجی ایجنڈے پر غور کیا جائے گا۔ طلبہ، تعلیم اور دیگر عوامی مسائل کو بھی اس دوران اٹھایا جائے گا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔