قومی خبریں

’مودی کو غلط فہمی ہے کہ وہ انکیتا کے والدین کی آواز دبا دیں گے‘

پون کھیڑا نے انکیتا کے والدین کو حراست میں لیے جانے پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس ملک میں بربریت ہو رہی ہے۔ جس پر الزام لگا ہے وہ گورنر بنے گا اور انکیتا کے والدین جیل جائیں گے؟‘‘

<div class="paragraphs"><p>انکیتا بھنڈاری کے والدین کی حمایت میں مظاہرہ کے دوران حراست میں لیے گئے پون کھیڑا اور سپریا شرینیت</p></div>

انکیتا بھنڈاری کے والدین کی حمایت میں مظاہرہ کے دوران حراست میں لیے گئے پون کھیڑا اور سپریا شرینیت

 

تصویر: کانگریس میڈیا سیل

دُشینت گوتم کو سکم کا گورنر بنائے جانے کے خلاف انکیتا بھنڈاری کے والدین نے جو احتجاجی مظاہرہ شروع کیا ہے، کانگریس نے اس کی مکمل حمایت کرتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس نے انڈیا گیٹ پر پُرامن مظاہرہ کر رہے انکیتا کے والدین کو حراست میں لیے جانے کی بھی شدید مذمت کی ہے، حالانکہ اب انھیں حراست سے رِہا کر دیا گیا ہے۔ کانگریس نے اس کارروائی کو ’بربریت‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ’’مودی کو غلط فہمی ہے کہ وہ انکیتا کے والدین کی آواز دبا دیں گے۔ انکیتا کو انصاف مل کر رہے گا۔ کانگریس یہ یقینی بنائے گی۔‘‘

کانگریس نے دُشینت گوتم کو گورنر بنائے جانے کی مذمت کرتے ہوئے مودی حکومت پر جارحانہ انداز میں حملہ کیا ہے۔ پارٹی نے ایک شوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’نریندر مودی تاناشاہی مت کرو۔ دُشینت گوتم کو گورنر بنا کر بچاؤ مت۔ ملک کی بیٹی انکیتا کے ساتھ ناانصافی مت کرو۔ یہ گناہ ہے، اس کی معافی نہیں۔‘‘ انڈیا گیٹ پر مظاہرہ میں موجود کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے بھی مودی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے انکیتا کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ دہلی پولیس نے انکیتا کے والدین کو حراست میں لے کر ان کے ساتھ دھکا مکی کی۔

بہرحال، کانگریس نے انکیتا بھنڈاری کے والدین کو پولیس کے ذریعہ خاموش کرانے کی کوشش پر امت شاہ کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ ’ایکس‘ پر جاری ایک طویل پوسٹ میں کانگریس نے کئی سوالات بھی اٹھائے ہیں۔ کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’رات کے اندھیرے میں انکیتا بھنڈاری کے بزرگ والدین کو، جو انڈیا گیٹ پر پُرامن احتجاج کرتے ہوئے اپنی بیٹی کے لیے انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے، امت شاہ کی پولیس نے حراست میں لے لیا۔ جو حکومت غمزدہ والدین کی فریاد سے خوفزدہ ہو، وہ اپنی تمام اخلاقی ساکھ گنوا چکی ہے۔‘‘ کانگریس نے پی ایم مودی اور امت شاہ سے 4 سوالات بھی کیے ہیں، جو اس طرح ہیں:

  1. کیا آپ کے ’اچھے دن والے بھارت‘ میں قتل کی گئی بیٹی کے لیے انصاف کا مطالبہ کرنا جرم ہے؟

  2. ان کے بزرگ والدین کو نصف رات کے وقت حراست میں کیوں لیا گیا؟ آپ کو کس بات کا اتنا خوف ہے؟

  3. دُشینت گوتم آپ کے لیے اتنے عزیز کیوں ہیں کہ انہیں بچانے کے لیے آپ غمزدہ والدین کی بے عزتی اور ان کے ساتھ بدسلوکی کرنے پر آمادہ ہیں؟

  4. کیا آپ کے نزدیک اس ملک کی بیٹیوں اور ماؤں کی حفاظت کرنے کا یہی طریقہ ہے؟

کانگریس نے تلخ سوالات قائم کرنے کے بعد کہا ہے کہ ’’انکیتا انصاف کی حقدار ہے، اس کے والدین جواب کے حقدار ہیں، اور اس ملک کی عوام ایسی حکومت کی حقدار ہے جو اپنی بیٹیوں کے ساتھ کھڑی ہو، ان کے خلاف نہیں۔‘‘ اس معاملہ میں کانگریس کے سینئر لیڈر اور قومی ترجمان پون کھیڑا نے بھی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔ وہ بھی انڈیا گیٹ پر انکیتا کے والدین کو حمایت دینے کے لیے دیر رات پہنچے تھے اور پولیس نے انھیں حراست میں لے لیا۔ حراست میں لیے جانے کے دوران انھوں نے کہا کہ ’’اس ملک میں بربریت ہو رہی ہے۔ جس پر الزام لگا ہے وہ گورنر بنے گا اور انکیتا کے والدین جیل جائیں گے؟ ہم زانیوں کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں تو جیل جائیں گے اور جس پر زنا کا الزام ہے وہ گورنر بنے گا، یہ ہے جمہوریت۔‘‘

اس دوران کانگریس لیڈر راگنی نایک نے انکیتا بھنڈاری کے والدین کو حراست میں لیے جانے کو ’جلے پر نمک چھڑکنا‘ قرار دیا ہے۔ انھوں نے میڈیا کو دیے اپنے بیان میں کہا کہ ’’دہلی پولیس نے انکیتا بھنڈاری کے والدین کو حراست میں لیا ہے۔ انصاف دینے کی جگہ جلے پر نمک چھڑکنے کا کام کیا ہے۔ شرم آنی چاہیے۔‘‘ سماجی کارکن یوگیتا بھیانا کا اس معاملہ میں کہنا ہے کہ ’’ہم حکومت کو 24 گھنٹے کا وقت دے رہے ہیں، کیونکہ انھوں نے بھی ہمیں 24 گھنٹے کا وقت دیا تھا۔ یہ لوگ (انکیتا کے والدین) پہاڑوں سے اتنی دور چل کر آئے ہیں، کیونکہ اتنے سنگین معاملہ میں، جس میں جیل کی سزا ہونی چاہیے تھی، اس کی جگہ گورنر کا عہدہ انعام میں دیا گیا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’ہم حکومت کو اس تقرری کو منسوخ کرنے کے لیے 24 گھنٹے کا وقت دے رہے ہیں، ورنہ تحریک جاری رہے گی اور ہم یہ پختہ کریں گے کہ ملک کی بیٹی، اتراکھنڈ کی بیٹی کو انصاف ملے۔ دُشینت کو استعفیٰ دینا ہوگا۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔