
جئے رام رمیش / آئی اے این ایس
کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے منریگا کے تحت روزگار کی ضمانت کے معاملے پر مرکز کی نریندر مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اس نے }وی بی-جی رام جی{ قانون کو پارلیمنٹ میں زبردستی منظور کرانے کے عبد روزگار کے آئینی حق کو ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلہ سے جنگلاتی حقوق قانون، 2006 کے مستفیدین بھی 150 دن کے روزگار کی ضمانت سے محروم ہو گئے ہیں۔ ان میں قبائلی اور دیگر روایتی جنگلاتی باشندے شامل ہیں، جن کی زندگی اور روزگار کا انحصار جنگلات پر ہے۔
جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر انگریزی روزنامہ ’دی ہندو‘ کی ایک خبر کا تراشہ شیئر کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا۔ اس خبر کی سرخی ہے ’جنگلاتی حقوق قانون کے تحت حق رکھنے والوں کو اضافی 50 دن کام دینے کے بارے میں ابھی تک کوئی حکم جاری نہیں‘۔ اسی معاملے کو اٹھاتے ہوئے انہوں نے مودی حکومت کی پالیسیوں پر سوال کھڑے کیے اور کہا کہ نئے قانون کے تحت روزگار کے حق اور اجرت میں اضافے کی قانونی ضمانت کو ختم کر دیا گیا ہے۔
جئے رام رمیش کے مطابق اپریل 2012 میں پہلی بار منریگا کے تحت روزگار کی ضمانت کو خشک سالی سے متاثرہ گجرات، راجستھان، مہاراشٹر اور کرناٹک میں بڑھا کر 150 دن کیا گیا تھا۔ جولائی 2013 میں اس خصوصی انتظام کو سیلاب سے متاثرہ اتراکھنڈ تک وسعت دی گئی، جبکہ جنوری 2014 میں جنگلاتی حقوق قانون، 2006 کے تمام مستفیدین کو بھی اس میں شامل کر لیا گیا تھا۔ ان اقدامات کے ذریعے ان علاقوں اور برادریوں کو اضافی روزگار فراہم کرنے کی کوشش کی گئی تھی، جنہیں معاشی مشکلات کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ مودی حکومت نے نئے قانون کے ذریعے اس خصوصی انتظام کو ختم کر دیا ہے، جس سے لاکھوں جنگلاتی باشندوں کو 150 دن کے روزگار کی ضمانت سے محروم ہونا پڑا ہے۔ ان کے مطابق یہ نقصان صرف اضافی 50 دن کے کام تک محدود نہیں، بلکہ ان برادریوں کے لیے پہلے سے موجود معاشی تحفظ کو بھی کمزور کرتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ قبائلیوں اور دیگر روایتی جنگلاتی باشندوں کی بڑی تعداد پہلے ہی جاب کارڈ حذف کیے جانے اور آدھار پر مبنی برج پیمنٹ سسٹم (اے بی پی ایس) اور نیشنل موبائل مانیٹرنگ سسٹم (این ایم ایم ایس) کے لازمی استعمال کے باعث روزگار اسکیم سے باہر ہو چکی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ تکنیکی نظاموں کی لازمی شرائط نے مستحق افراد کے لیے اسکیم تک رسائی میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔
نئے قانون پر تنقید کرتے ہوئے جئے رام رمیش نے کہا کہ ’’وی بی-جی رام جی کے تحت واحد ضمانت ٹیکنالوجی کے ذریعے لوگوں کو اسکیم سے باہر کرنا، اختیارات کو مرکز میں جمع کرنا اور گرام پنچایتوں کو بے اختیار بنانا ہے۔‘‘ ان کے اس تبصرے میں نئے نظام کے انتظامی ڈھانچے اور دیہی سطح پر مقامی اداروں کے اختیارات سے متعلق خدشات نمایاں ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
تصویر: کانگریس میڈیا سیل