
کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی کا ایک مضمون آج انگریزی روزنامہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ میں شائع ہوا، جس کی کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے پذیرائی کی ہے۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے غزہ میں جاری جنگ، فلسطینی عوام کی حالت زار اور ہندوستان کی مایوس کن خارجہ پالیسی کے بارے میں لکھے گئے اس مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی بامعنی رائے سامنے رکھی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’ہم تیزی کے ساتھ اسرائیل کے اسٹریٹجک دائرۂ اثر میں داخل ہوتے جا رہے ہیں، ایسے وقت میں جب دنیا کا بڑا حصہ اس سے دوری اختیار کر رہا ہے۔ وزیر اعظم مودی کا دورۂ اسرائیل تاریخ میں ایک حیرت انگیز اسٹریٹجک فیصلے کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔‘‘
Published: undefined
راہل گاندھی نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھتے ہیں ’’سونیا گاندھی نے اداریہ (مضمون) کے ذریعہ حکومت ہند سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی آزاد خارجہ پالیسی کو دوبارہ مضبوط کرے، انسانی اقدار کا تحفظ کرے اور غزہ کے معاملے پر اخلاقی وضاحت اور جرأت کے ساتھ اپنی آواز بلند کرے۔‘‘ انھوں نے سونیا گاندھی کی اس بات پر بھی حمایت کی کہ ’’ہندوستانی قومیت کی روح کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے حق میں آواز بلند کریں، جن کے بچوں کو بے رحمی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا ہے۔‘‘
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ سونیا گاندھی نے اپنے مضمون میں الزام عائد کیا ہے کہ مودی حکومت کی موجودہ خارجہ پالیسی نے ہندوستان کی روایتی اور متوازن سفارتی شناخت کو کمزور کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک مغربی ایشیا میں اپنے فطری اور مؤثر کردار سے محروم ہو گیا ہے۔ سونیا گاندھی نے لکھا ہے کہ ہندوستان تاریخی طور پر فلسطین کے حق خود ارادیت، عالمی امن اور انسانی حقوق کا حامی رہا ہے، لیکن غزہ میں جاری انسانی المیے کے باوجود مرکزی حکومت کی خاموشی باعث تشویش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران فلسطین، ایران اور مغربی ایشیا کے دیگر ممالک کے ساتھ اعتماد پر مبنی تعلقات قائم کیے تھے، لیکن موجودہ حکومت کی پالیسیوں نے اس توازن کو نقصان پہنچایا ہے۔
Published: undefined
سونیا گاندھی نے مضمون میں اسرائیل کے تئیں حکومت کے بڑھتے ہوئے جھکاؤ پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ جب پوری دنیا غزہ میں ہونے والی تباہی اور عام شہریوں، خصوصاً بچوں کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے، تب ہندوستان کی جانب سے کوئی واضح اور مضبوط موقف سامنے نہیں آ رہا۔ سونیا گاندھی کے مطابق اگر ہندوستان اپنی روایتی خارجہ پالیسی پر قائم رہتا تو آج وہ مغربی ایشیا میں ایک مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا تھا۔
Published: undefined
کانگریس کی سینئر لیڈر نے اپنے مضمون میں اقوام متحدہ کی مختلف رپورٹس اور بین الاقوامی اداروں کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں ہزاروں بچے مارے جا چکے ہیں، تعلیمی و طبی ڈھانچہ تقریباً تباہ ہو چکا ہے۔ یہ صورتحال محض ایک فوجی تنازعہ نہیں بلکہ ایک سنگین انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ تاہم سونیا گاندھی نے یہ بھی واضح کیا کہ حماس کی جانب سے اسرائیل پر کیا گیا حملہ ناقابل قبول اور قابلِ مذمت تھا، لیکن ان کے مطابق اس کے جواب میں اسرائیل کی فوجی کارروائیاں ضرورت سے کہیں زیادہ آگے بڑھ چکی ہیں اور ان کے نتیجے میں عام فلسطینی شہریوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
Published: undefined
سیاسی حلقوں میں سونیا گاندھی کے اس مضمون کو مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر کانگریس کا ایک بڑا اور براہ راست حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب غزہ کی صورتحال پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے، کانگریس نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطین کے مسئلے پر اپنی پوزیشن واضح کرے اور ہندوستان کی روایتی سفارتی پالیسی کے مطابق متوازن اور اصولی موقف اختیار کرے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined