قومی خبریں

ستمبر میں مانسون کو لے کر موسمیاتی ادارے تشویش میں مبتلا، دہلی اور ہریانہ سمیت کئی ریاستوں کے لیے وارننگ

ستمبر جنوب مغربی مانسون کا آخری مہینہ ہوتا ہے۔ اسی دوران کئی ریاستوں میں خریف فصلوں کو آخری دور کی بارش ملتی ہے۔ اگر اس مہینے میں بارش معمول سے کم رہتی ہے تو کسانوں کی تشویش بڑھ سکتی ہے۔

<div class="paragraphs"><p> بارش کی فائل تصویر / یو این آئی</p></div>

بارش کی فائل تصویر / یو این آئی

 

ستمبر میں ملک کے مختلف حصوں میں مانسون کمزور پڑ سکتا ہے۔ یورپ کے موسمی ماڈل ای سی ایم ڈبلیو ایف کے تازہ اندازے میں مہاراشٹر، گجرات، مدھیہ پردیش، راجستھان، دہلی، پنجاب، ہریانہ، چنڈی گڑھ، تلنگانہ اور آندھرا پردیش سمیت کئی ریاستوں میں معمول سے کم بارش ہونے کے اشارے ملے ہیں۔ یہ اندازہ ستمبر کے لیے جاری کیا گیا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو زراعت، آبی ذخائر اور پانی کی دستیابی پر اثر پڑ سکتا ہے۔ حالانکہ یہ صرف ایک موسمی ماڈل کا اندازہ ہے۔ موسمی صورتحال تبدیل ہونے پر اس میں تبدیلی بھی ہو سکتی ہے۔

ستمبر جنوب مغربی مانسون کا آخری مہینہ ہوتا ہے۔ اسی دوران کئی ریاستوں میں خریف فصلوں کو آخری دور کی بارش ملتی ہے۔ اگر اس مہینے میں بارش معمول سے کم رہتی ہے تو کسانوں کی تشویش بڑھ سکتی ہے۔ ماہرین موسمیات بھی مسلسل نئے اعداد و شمار اور مختلف ماڈلز کی بنیاد پر مانسون کی صورتحال پر نظر رکھ رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں کئی موسمی ایجنسیوں نے بھی مانسون کے دوسرے حصے میں بارش کمزور پڑنے کے امکانات ظاہر کیے تھے۔ محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے بھی اگست اور ستمبر میں ملک کے مختلف حصوں میں معمول سے کم بارش ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ ایسے میں سبھی کی نظر ستمبر کے موسم پر ہے۔

’یورپین سینٹر فار میڈیم رینج ویدر فورکاسٹس‘ (ای سی ایم ڈبلیو ایف) کو دنیا کے سب سے قابل اعتماد موسمی ماڈلز میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ ماڈل سیٹلائٹ، موسمی مراکز، سمندر اور ہوا سے حاصل ہونے والے لاکھوں اعداد و شمار کا تجزیہ کر کے موسم کی پیش گوئی تیار کرتا ہے۔ اس کے تازہ ماڈل میں مغربی، وسطی اور شمالی ہندوستان کے کئی حصوں کو سب سے کم بارش والے زمرے (لوئسٹ پرسنٹائل کیٹیگری) میں رکھا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان علاقوں میں معمول سے کافی کم بارش ہونے کا امکان ہے۔ ماڈل کے مطابق مہاراشٹر، گجرات، مدھیہ پردیش، راجستھان، دہلی، پنجاب، ہریانہ، چنڈی گڑھ، تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں ستمبر کے دوران معمول سے کم بارش ہو سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو کھیتوں میں کھڑی خریف فصلوں، آبی ذخائر میں پانی کی سطح اور پینے کے پانی کی دستیابی پر اثر پڑ سکتا ہے۔

ہندوستان میں سالانہ بارش کا تقریباً 70 فیصد حصہ جنوب مغربی مانسون سے حاصل ہوتا ہے۔ ستمبر مانسون کا آخری مہینہ ہوتا ہے اور اسی وقت دھان، سویابین، کپاس، مکئی جیسی کئی خریف فصلوں کو اچھی بارش کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر اس مہینے بارش کم ہوتی ہے تو فصلوں کی پیداوار پر اثر پڑ سکتا ہے۔ کئی ریاستوں میں ڈیم اور آبی ذخائر بھی اسی بارش پر منحصر رہتے ہیں۔ موسمی ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل مدتی موسمی ماڈل صرف امکانات ظاہر کرتے ہیں۔ جیسے جیسے ستمبر قریب آئے گا، نئے موسمی نظام اور تازہ اعداد و شمار کی بنیاد پر اندازے تبدیل بھی ہو سکتے ہیں۔ اس لیے فی الحال اسے ابتدائی اشارے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ستمبر کے لیے حتمی اور زیادہ درست تصویر آنے والے دنوں میں آئی ایم ڈی اور دیگر موسمی ایجنسیوں کی نئی پیش گوئیوں سے واضح ہوگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔