
جرمن چانسلر میرکل اور ان کے ہمراہ جانے والے وزارتی وفد نے نئی دہلی میں بھارتی وزیر اعظم مودی اور ان کی کابینہ کے ارکان کے ساتھ حکومتی مذاکرات میں حصہ لیا۔ میرکل کے مطابق دونوں ملک آپس کے تعاون میں مزید اضافہ چاہتے ہیں۔
دارالحکومت سے موصولہ نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق آج جمعہ یکم نومبر کو جرمنی اور بھارت کے حکومتی سربراہان نے اپنی اپنی کابینہ کے متعدد وزراء کے ساتھ جس بات چیت میں حصہ لیا، وہ ہر دو سال بعد ہونے والی اور اپنی نوعیت کی وہ پانچویں سربراہی ملاقات ہے، جو دوطرفہ حکومتی مشاورت کہلاتی ہے۔ اس حکومتی مشاورت کے اختتام پر جرمنی اور بھارت کے مابین متعدد نئے معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔
Published: undefined
چانسلر انگیلا میرکل نے، جو کل جمعرات کو اپنی کابینہ کے متعدد ارکان پر مشتمل ایک وفد کے ساتھ نئی دہلی پہنچی تھیں، آج جمعے کو وزیر اعظم مودی کے ساتھ مل کر اس جرمن بھارتی حکومتی مشاورتی سمٹ کا آغاز کیا، جس کا مقصد اطراف کے مابین اور زیادہ قریبی تعاون کے نئے راستے تلاش کرنا ہے۔
Published: undefined
ان مذاکرات کےآغاز سے قبل انگیلا میرکل نے نئی دہلی کے صدارتی محل میں اپنے باقاعدہ استقبال کی تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ''جرمنی اور بھارت آپس کے بہت قریبی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ مشترکہ حکومتی مشاورت کے دوران باہمی مفادات کے حامل کئی امور پر کھل کر بحث کی جائے گی۔‘‘
Published: undefined
Published: undefined
بھارتی وزیر اعظم مودی کے ساتھ مل کر صحافیوں سے گفگتو کرتے ہوئے چانسلر میرکل نے مزید کہا، ''اس دورے کے دوران یہ موقع بھی ملے گا کہ کئی معاہدوں کے علاوہ مفاہمت کی متعدد یادداشتوں پر بھی دستخط کیے جائیں، جو اس بات کا ثبوت ہو گا کہ دونوں ممالک کے وسیع تر تعلقات کتنے گہرے ہیں۔‘‘
Published: undefined
جرمنی اور بھارت کے اسی سربراہی اجلاس کے بارے میں نئی دہلی میں ملکی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے بتایا، ''اس دورے کے مذاکراتی ایجنڈے میں معیشت، تجارت اور سرمایہ کاری کے علاوہ خارجہ پالیسی اور سلامتی سے جڑے ہوئے کئی موضوعات بھی شامل ہیں۔‘‘
Published: undefined
مزید یہ کہ اس دوران زرعی، تعلیمی اور سائنسی شعبوں، خاص کر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس دورے کے دوران میرکل اور مودی مشترکہ طور پر جرمنی اور بھارت کے سرکردہ کاروباری رہنماؤں سے بھی ملیں گے۔ میرکل کے ہمراہ جرمنی کی کئی انتہائی اہم کاروباری شخصیات بھی بھارت گئی ہیں۔
Published: undefined
Published: undefined
جرمن بھارتی تعلقات کی بہت منفرد نوعیت میں یہ بات بھی اہم ہے کہ آبادی کے لحاظ سے بھارت دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے جبکہ جرمنی یورپ کی سب سے بڑی معیشت ہے اور یورپی یونین کا سب سے زیادہ آبادی والا رکن ملک بھی۔ جرمنی یورپ میں بھارت کا سب سے بڑا تجارتی ساتھی ملک بھی ہے اور گزشتہ پانچ برسوں میں دوطرفہ تجارت کا حجم 20 بلین ڈالر کے قریب رہا ہے۔
Published: undefined
دوسری طرف جرمنی بھارت میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کرنے والا ساتوں بڑا ملک ہے اور جرمن کمپنیاں بھارت میں 1600 منصوبوں میں تعاون کر رہی ہیں جبکہ دونوں ممالک کے مشترکہ اقتصادی اور پیداواری منصوبوں کی تعداد بھی 600 سے زائد بنتی ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined