
بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ مایاوتی کا بھتیجے آکاش آنند کے سسر اشوک سدھارتھ پر غصہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ بی ایس پی سپریمو نے ایک بار پھر ان پر بڑا حملہ کرتے ہوئے کہا کہ دباؤ کے باوجود انہوں نے استعفیٰ نہیں دیا اور تمام حربے استعمال کر کے خود کو بچانے کی کوشش کی۔ مایاوتی نے یہ بھی اشارہ دیا کہ آنے والے وقت میں اشوک سدھارتھ سے متعلق مزید انکشافات کیے جائیں گے۔
دراصل بی ایس پی چیف مایاوتی نے آج ایک بار پھر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک طویل پوسٹ کی ہے، جس میں انہوں نے بی ایس پی کے عزائم ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ سماجوادی پارٹی، کانگریس سمیت کئی سیاسی پارٹیوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ اس سوشل میڈیا پوسٹ میں مایاوتی نے اشوک سدھارتھ کے سیاست سے سبکدوش ہونے کی پوری کہانی کا بھی ذکر کیا ہے۔ مایاوتی نے کہا کہ ’’جس دن بی ایس پی نے اشوک سدھارتھ کو سیاست سے سبکدوش ہونے کا مشورہ دیا تھا، اس دن ان پر کافی دباؤ پڑنے کے باوجود انہوں نے فوری طور پر اپنے سبکدوش ہونے کا اعلان نہیں کیا تھا۔ وہ پوری رات اسے رکوانے کے لیے طرح طرح کے حربے استعمال کرتے رہے۔‘‘
بی ایس پی چیف کا کہنا ہے کہ جب اشوک سدھارتھ کو کامیابی نہیں ملی تو مجبوری میں اگلے دن یہ سوچ کر تقریباً صبح 6:30 بجے انہیں اپنے سبکدوش ہونے کا کافی ’لیکن ویکن‘ والا اعلان کرنا پڑا کہ کہیں زیادہ تاخیر ہونے سے بڑا نقصان نہ ہو جائے۔ مایاوتی نے یہ بھی کہا کہ اس کے بارے میں صحیح وقت آنے پر پارٹی کے لوگوں کو اور بھی بہت کچھ ضرور بتایا جائے گا۔ مایاوتی کے اس بیان سے صاف ہے کہ آنے والے دنوں میں اشوک سدھارتھ کو لے کر مزید بڑی باتیں سامنے آ سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ جمعرات کو آکاش آنند کے سسر اشوک سدھارتھ نے سیاست سے سبکدوش ہونے کا اعلان کیا تھا، جس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مایاوتی نے اسے دیر سے اٹھایا گیا درست قدم قرار دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر وہ صحیح وقت پر سبکدوش ہو جاتے تو بی ایس پی، بہوجن تحریک کے ساتھ ساتھ آکاش آنند کو بھی ناموافق حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ بعد میں مایاوتی نے آکاش آنند کو بھی پارٹی کی تمام ذمہ داریوں سے آزاد کر دیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔