قومی خبریں

مایاوتی نے یوپی اسمبلی انتخاب تنہا لڑنے کا کیا اعلان، پنجاب و اتراکھنڈ میں بھی کسی پارٹی سے نہیں ہوگا اتحاد

بہوجن سماج پارٹی کی چیف مایاوتی نے پارٹی کارکنان سے اپیل کی ہے کہ وہ مخالفین کے سبھی حربوں کا سامنا کرتے ہوئے بہتر نتائج حاصل کریں۔

مایاوتی، تصویر یو این آئی
مایاوتی، تصویر یو این آئی 

بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) نے 2027 میں ہونے والے اتر پردیش اسمبلی انتخاب کی تیاریوں سے متعلق اپنی حکمت عملی آج صاف کر دی۔ بی ایس پی چیف مایاوتی نے منگل کے روز اپنے بیان میں کہا کہ پارٹی اتر پردیش کے ساتھ ساتھ پنجاب اور اتراکھنڈ میں بھی کسی پارٹی سے اتحاد یا معاہدہ نہیں کرے گی۔ انھوں نے واضح کیا کہ بی ایس پی اپنی طاقت پر انتخابی میدان میں اترے گی اور اچھے نتائج حاصل کرنے کی پوری کوشش کرے گی۔

مایاوتی نے مختلف ریاستوں میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر پارٹی تنظیم کو بوتھ سطح تک مضبوط بنانے پر خاص زور دیا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ انتخابات کے لیے محنتی و ایماندار لوگوں کو امیدوار بنایا جائے گا۔ لکھنؤ میں منعقد میٹنگ میں مایاوتی نے پنجاب میں پارٹی کی صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ ’’آئندہ اسمبلی انتخاب میں بی ایس پی کو بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے پوری طاقت سے تیاری کرنی ہوگی۔‘‘ انھوں نے پارٹی عہدیداروں کو انتخابی تیاریوں میں کسی طرح کی کمی نہ رہنے کی ہدایت بھی دی۔ بی ایس پی چیف نے کہا کہ انتخابی اتحاد سے پارٹی کو سیٹ اور ووٹ فیصد دونوں سطح پر نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے اتر پردیش، پنجاب اور اتراکھنڈ میں بی ایس پی تنہا اپنی طاقت پر انتخاب لڑے گی۔

میٹنگ میں مایاوتی نے پارٹی کارکنان سے اپیل کی کہ وہ مخالفین کے سبھی حربوں کا سامنا کرتے ہوئے انتخابات میں بہتر نتائج حاصل کریں۔ اس میٹنگ میں انھوں نے آئندہ 9 اکتوبر کو پارٹی کے بانی کانشی رام کے یومِ وفات سے متعلق پروگراموں کی تیاریوں کو گزشتہ سال کی گائیڈلائنس کے ساتھ ہی پورا کرنے کو کہا۔ ساتھ ہی 15 جنوری 2027 کو ’یومِ عوامی بہبود‘ کے موقع پر بی ایس پی کی طرف سے کیے جانے والے معاشی تعاون کو گزشتہ بار سے بہتر کرنے پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ ان تقاریب کے ذریعہ امبیڈکروادی نظریات اور بی ایس پی تحریک کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔ مایاوتی نے یہ بھی کہا کہ پارٹی کا ہدف غریب، بے روزگار اور محروم طبقات کو غریبی و بے روزگاری سے آزادی اور وقار کے ساتھ زندگی کا موقع دلانے والی پالیسیوں کو آگے بڑھانا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔