
فوٹو ویڈیو گریپ
ورنداون واقع یمنا میں کشتی حادثے میں غرقاب ہونے والے 5 میں سے مزید دو عقیدتمندوں کی لاشیں اتوار کی صبح برآمد کرلی گئی ہیں۔ جائے حادثہ سے 3 کلومیٹر کے فاصلے پر اکرور گھاٹ کے قریب ایک نوجوان کی لاش ملی جبکہ دیورہا بابا گھاٹ کے قریب ایک دیگرخاتون عقیدتمند کی لاش ملی ہے۔ اس کے ساتھ ہی 3 روز قبل ہوئے کشتی حادثے میں اب تک 13 عقیدتمندوں کی موت ہو چکی ہے اور 3 ابھی تک لاپتہ ہیں جن کی تلاش جنگی پیمانے پر جاری ہے۔
Published: undefined
اس سلسلے میں ایس پی (دیہات) سریش چندر راوت نے بتایا کہ اتوار کی صبح یمنا ندی سے ایک نوجوان اور ایک خاتون کی لاش برآمد ہوئی ہیں۔ متوفی نوجوان کی شناخت رشبھ شرما کے طور پر ہوئی ہے۔ اس کی لاش جائے حادثہ سے 3 کلومیٹر دور اکرور گھاٹ کے قریب ملی۔ وہیں دیوراہا بابا گھاٹ کے قریب ایک خاتون کی لاش ملی ہے جس کی شناخت 21 سالہ ڈکی بنسل کے طور پر کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 3 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ ان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ جمعہ کی دوپہر ورنداون میں پیش آنے والے المناک موٹر بوٹ حادثے میں 10 عقیدتمندوں کی موت ہوگئی تھی جبکہ 5 دیگر لاپتہ ہوگئے تھے جن کی مسلسل تلاش کی جاری ہے۔ حادثے کا شکار ہونے والے زیادہ تر افراد پنجاب کے لدھیانہ اور جگراوں کے رہنے والے تھے۔ لاپتہ عقیدتمندوں میں پنکج ملہوترا، یش بھلا اور مونیکا شامل ہیں۔ کنبہ کے افراد اپنے پیاروں کی تلاش میں پنجاب سے ورنداون پہنچے ہیں۔ انتظامیہ اور مقامی پولیس کے ساتھ ساتھ این ڈی آرایف اور ایس ڈی آرایف کی ٹیمیں بھی لاپتہ عقیدتمندوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔ یمنا میں پانی کے تیز بہاؤ اور گہرے گھاٹوں کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں کافی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
Published: undefined
کے سی گھاٹ سے لے کر گوکل بیراج تک یمنا ندی کو 7 سیکٹروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اب 20 کلومیٹر کے دائرے میں یمنا میں ڈوبنے والوں کی تلاش کی جائے گی۔ ڈی آئی جی آگرہ رینج کے حکم پر 7 پولس تھانہ انچارج یمنا کے 7 سیکٹرز کی نگرانی کریں گے۔ یمنا ندی میں 5 لوگوں کی تلاش اتوار کو صبح 5 بجے سے دوبارہ شروع ہوئی تھی۔ سی او مونٹ سندیپ کمار سنگھ نے بتایا کہ اب یمنا کے 7 سیکٹروں میں کے سی گھاٹ سے گوکل بیراج تک تلاشی مہم شروع کی جائے گی۔ مقامی غوطہ خور، ملاح، پی اے سی غوطہ خور، ایس ڈی آر ایف اور این ڈی آر ایف کی ٹیمیں بھی اس میں شامل ہوں گی۔
Published: undefined
سی او نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر فوج کی مدد بھی لی جاسکتی ہے۔ صبح 5 بجے سے مختلف ٹیمیں الگ الگ گھاٹوں پر تلاش کررہی ہیں۔ ایک گھاٹ پر 3 سے 4 ٹیمیں تعینات کی کی گئی ہیں۔ دیورہا بابا گھاٹ اور آس پاس کے گھاٹوں پر خصوصی نظر رہے گی۔ اس سلسلے میں آس پاس کے اضلاع کو بھی مطلع کر دیا گیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined