
علامتی تصویر
کئی ایسی سیاسی پارٹیاں ہیں جو صرف کاغذوں پر موجود ہیں، یا تو انتخابات میں حصہ نہیں لیتیں یا چند نشستوں پر اپنی قسمت آزماتی ہیں۔ ہندوستان میں فی الحال 2800 سے زیادہ سیاسی پارٹیاں ہیں، لیکن ان میں سے صرف 73 کو ہی الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے قومی یا ریاستی سطح کی پارٹی کے طور پر منظوری دی ہے۔ باقی تمام پارٹیاں آر یو پی پی (رجسٹرڈ غیر تسلیم شدہ سیاسی پارٹیاں) ہیں۔ واضح رہے کہ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے 20 اراکین پارلیمنٹ پارٹی چھوڑ کر نیشنلسٹ سٹیزنز پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) میں شامل ہوگئے تھے۔ یہ بھی ایک رجسٹرڈ لیکن غیر تسلیم شدہ سیاسی پارٹی ہے۔
’بی بی سی‘ کے مطابق 6 ایسی آر یو پی پی (رجسٹرڈ غیر تسلیم شدہ سیاسی پارٹیاں) سیاسی پارٹیاں ہیں، جنہیں 2024 کے عام انتخاب سے قبل سب سے زیادہ چندہ ملا تھا۔ ان میں عام جن مت پارٹی (620.24 کروڑ روپے)، ستیہ وادی رکشک پارٹی (330.55 کروڑ روپے)، سوتنترتا ابھی ویکتی پارٹی (219.69 کروڑ روپے)، نیو انڈیا یونائیٹڈ پارٹی (200.69 کروڑ روپے)، بھارتیہ نیشنل جنتا دل (191.61 کروڑ روپے) اور غریب کلیان پارٹی (138 کروڑ روپے) شامل ہیں۔ 24-2023 میں ان پارٹیوں کی مجموعی آمدنی، حکمراں بی جے پی کو چھوڑ کر باقی 5 قومی پارٹیوں جس میں کانگریس، عام آدمی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی وغیرہ شامل ہیں، کی آمدنی سے زیادہ ہے۔ اس کے باوجود الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ سب سے زیادہ دولت مند 6 غیر تسلیم شدہ رجسٹرڈ سیاسی پارٹیوں نے 2024 کے لوک سبھا انتخاب میں صرف 15 امیدوار میدان میں اتارے تھے، جبکہ بی جے پی کے علاوہ باقی 5 پارٹیوں نے 893 امیدوار کھڑے کیے تھے۔
’عام جن مت پارٹی‘ جسے 6 آر یو پی پی میں سب سے زیادہ چندہ ملا تھا، نے انتخابات میں صرف ایک امیدوار میدان میں اتارا تھا۔ الیکشن کمیشن کو دی گئی معلومات کے مطابق 2020 میں پٹنہ میں پارٹی کے قیام کے بعد 2 سال تک اسے 20000 روپے سے زیادہ کا کوئی چندہ نہیں ملا۔ سیاسی پارٹیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ 20000 روپے سے زیادہ کے تمام چندوں کی سالانہ رپورٹ الیکشن کمیشن کو جمع کرائیں۔ 23-2022 میں عام جن مت پارٹی کو 216 کروڑ روپے ملے اور پھر 24-2023 میں چندہ بڑھ کر 620 کروڑ روپے ہوگیا۔ پٹنہ میں ’بی بی سی‘ نے پارٹی کی بانی صدر انامیکا پاسوان سے بات کی۔ فی الحال انامیکا بی جے پی کی ریاستی نائب صدر ہیں۔ انامیکا نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے 2022 میں عام جن مت پارٹی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان کے شوہر نے ان کا استعفیٰ خط اور ایک دستاویز دکھائی، جس میں کہا گیا تھا کہ پارٹی اپنا مرکز پٹنہ سے احمد آباد منتقل کرچکی ہے اور فی الحال گورو مشرا اس کے صدر ہیں۔ حالانکہ احمدآباد میں پارٹی کا رجسٹرڈ آفس بند تھا۔ فون پر بات چیت کے دوران پارٹی کے خزانچی دھرمیندر ویشنو نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پارٹی کا کام کاج بند کر دیا تھا، جبکہ ’بی بی سی‘ کی ٹیم اب بھی ان کے بینک اکاؤنٹ میں چندہ بھیج سکتی تھی۔ پارٹی کے مالی معاملات کے بارے میں مزید پوچھے جانے پر ویشنو نے کہا کہ انہیں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں اور تمام سوالات گورو مشرا سے کرنے کو کہا۔ لیکن گورو مشرا نے بار بار کیے گئے فون اور بھیجے گئے پیغامات کا کوئی جواب نہیں دیا۔
’بی بی سی‘ کے مطابق گجرات کی ’ستیہ وادی رکشک پارٹی‘ جس کے دفتر کے باہر تالا لگا ہوا تھا اور وہاں کوئی بورڈ یا پوسٹر بھی نہیں تھا جس سے یہ پتہ چل سکے کہ یہ واقعی پارٹی کا رجسٹرڈ دفتر ہے۔ ایسی جگہ دیکھ کر یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ اس پارٹی کو 24-2023 میں 330 کروڑ روپے کا چندہ ملا تھا۔ پارٹی نے 2024 کے لوک سبھا انتخاب میں صرف ایک امیدوار میدان میں اتارا تھا۔ پارٹی کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق اس نے انتخابی مہم پر 8.48 کروڑ روپے خرچ کیے، جبکہ ’عوامی فلاح‘ کے نام پر 316 کروڑ روپے خرچ کیے۔ ’ستیہ وادی رکشک پارٹی‘ کی صدر سواتی بین سے پارٹی کو ملنے والے چندے اور اس کے اخراجات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے پیسے فلاحی کاموں پر خرچ کیے ہیں، لیکن اس کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھا ہے۔‘‘
کچھ ایسا ہی معاملہ ’غریب کلیان پارٹی‘ کا بھی رہا، جسے چندے کے طور پر 138 کروڑ روپے ملے تھے اور جس نے 3 امیدوار میدان میں اتارے۔ اس پارٹی کا دفتر احمد آباد کے نرودا علاقے میں ’عام جن مت پارٹی‘ کے دفتر کے قریب ہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 6 آر یو پی پی میں سے 4 کے رجسٹرڈ آفس ایک ہی علاقے میں ہیں۔ باقی 2 بھی گجرات میں ہی ہیں۔ غریب کلیان پارٹی کا دفتر بھی بند تھا۔ پارٹی کے صدر نیرج کمار چھتریہ کے گھر پر ان کی والدہ آشا بین نے ’بی بی سی‘ کو بتایا کہ وہ گھر پر موجود نہیں ہیں اور انہیں پارٹی کے کام کاج کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔ حالانکہ انہوں نے تسلیم کیا کہ محکمہ انکم ٹیکس نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا تھا۔ آشا بین نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ یہ چھاپے کیوں مارے گئے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر محکمہ انکم ٹیکس کے ایک افسر نے ’بی بی سی‘ کو ایک ’انٹرنل ڈوزیئر‘ دکھایا، جس میں کہا گیا ہے کہ محکمہ انکم ٹیکس کم از کم 2022 سے ہی مشتبہ آر یو پی پی کی تحقیقات کر رہا ہے۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ نے ٹیکس میں چھوٹ حاصل کرنے کے لیے ٹیکس دہندگان کی جانب سے آر یو پی پی کو دیے گئے 5591 کروڑ روپے کے فرضی چندے کی نشاندہی کی ہے۔ ان میں سے محکمہ 2749 کروڑ روپے وصول کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ دستاویز کے مطابق پارٹیوں کی جانب سے کیے گئے 665 کروڑ روپے کے غیر ملکی لین دین کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال الیکشن کمیشن نے 800 سے زیادہ آر یو پی پی کو فہرست سے خارج کر دیا تھا۔ کمیشن کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں اس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ ان پارٹیوں نے گزشتہ 6 برسوں کے دوران کسی بھی انتخابات میں ایک بھی امیدوار میدان میں نہیں اتارا تھا۔ یہ واضح نہیں ہے کہ اس کارروائی کی وجہ مالی بے ضابطگیاں بھی تھیں یا نہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔