قومی خبریں

منوج جرانگے نے مراٹھا ریزرویشن پر جاری کیا الٹی میٹم، ممبئی جانے کا کیا اعلان

جرانگے پاٹل کے مطابق مہاراشٹر کے مختلف اضلاع اور علاقوں سے مراٹھا برادری کے نمائندوں اور کارکنوں کو بلایا جائے گا۔ اس کے بعد 12 ستمبر کو ممبئی میں تحریک کی حکمت عملی کا اعلان کیا جائے گا۔

<div class="paragraphs"><p>منوج جرانگے پاٹل، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

منوج جرانگے پاٹل، تصویر آئی اے این ایس

 

مراٹھا ریزرویشن تحریک کے اہم لیڈر منوج جرانگے پاٹل نے مہاراشٹر حکومت کو ایک بار پھر بڑی تحریک شروع کرنے کی وارننگ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر 12 ستمبر تک حکومت نے مراٹھا برادری کے اہم مطالبات پر ٹھوس فیصلہ نہیں لیا تو ریاست بھر سے مراٹھا برادری ممبئی کی جانب کوچ کرے گی۔ جرانگے پاٹل نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت تحریک کو محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مراٹھا برادری کی تعداد اور تحریک کی طاقت کو کسی بھی طرح نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مہاراشٹر کے ساتھ ساتھ ممبئی میں رہنے والے مراٹھا برادری کے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ تحریک کے دوران عام شہریوں کو کسی طرح کی پریشانی نہ ہو۔

جرانگے نے کہا کہ ممبئی میں ایسا پرامن ماحول بنایا جانا چاہیے، جس سے لوگوں کو یہ واضح ہو کہ مطالبات کا حل نہ ہونے کی وجہ سے مراٹھا برادری کو ممبئی کا رخ کرنا پڑا ہے۔ منوج جرانگے پاٹل نے مزید کہا کہ مراٹھا برادری کو مستقل اور مؤثر ریزرویشن دلانے کا راستہ صرف کنبی ریزرویشن سے ہی نکل سکتا ہے۔ انہوں نےایس ای بی سی، ای ڈبلیو ایس، سارتھی اور کنبی سے متعلق سرکاری جی آر سمیت دیگر مسائل کو بھی تحریک میں نمایاں طور پر اٹھانے کی بات کہی۔ جرانگے نے تحریک میں شامل کارکنوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ تحریک کے دوران آتش زنی، توڑ پھوڑ یا پتھراؤ جیسے واقعات نہیں ہونے چاہئیں۔

جرانگے پاٹل کے مطابق مہاراشٹر کے مختلف اضلاع اور علاقوں سے مراٹھا برادری کے نمائندوں اور کارکنوں کو بلایا جائے گا۔ اس کے بعد 12 ستمبر کو ممبئی میں تحریک کی حکمت عملی کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے حکومت کو تقریباً 15 دنوں کا وقت دیتے ہوئے سخت موقف اختیار کیا۔ جرانگے نے کہا کہ اگر اس مدت کے دوران مراٹھا برادری کے مطالبات کا حل نہیں نکلا تو مظاہرین کو ممبئی سے واپس لانا ان کے لیے ممکن نہیں ہوگا اور وہ خود بھی واپس نہیں لوٹیں گے۔ جرانگے نے حامیوں سے کہا کہ 29 اگست سے 12 ستمبر تک صبح اور شام احتجاجی مقام پر موجود رہ کر حکومت پر مطالبات تسلیم کرنے کے لیے دباؤ بنایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مدت کے دوران تحریک کو مسلسل مضبوط کیا جائے گا۔

جرانگے پاٹل نے حامیوں سے بڑی تعداد میں ممبئی پہنچنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ممبئی میں چہار جانب سے مظاہرین کی موجودگی درج کرائی جائے گی۔ انہوں نے بڑی تعداد میں موٹر سائیکلوں کے ذریعے ممبئی پہنچنے کی بھی بات کہی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ممبئی کی مراٹھا برادری سے اپیل کی کہ شہر میں آنے والے مظاہرین کے لیے کھانے، پانی اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی میں تعاون کیا جائے۔ جرانگے کی ممبئی میں تحریک کی وجہ سے حکومت اور انتظامیہ کے سامنے ایک اہم چیلنج در پیش ہے۔ 14 ستمبر سے مہاراشٹر میں گنیش اتسو شروع ہونا ہے، جو تقریباً 11 دنوں تک جاری رہے گا۔ ممبئی میں گنیش اتسو کے دوران پہلے ہی بڑی تعداد میں عقیدت مندوں کی آمد و رفت رہتی ہے۔ اگر عین اسی وقت بڑی تعداد میں مراٹھا مظاہرین ممبئی پہنچتے ہیں تو ٹریفک، عوامی نظم و نسق اور گنیش اتسو سے متعلق پروگراموں پر ممکنہ اثرات کے پیش نظر انتظامیہ کو اضافی تیاریاں کرنی پڑ سکتی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔