قومی خبریں

’ممتا بنرجی کا رویہ ایک چھوٹی بچی جیسا‘، استعفیٰ نہ دینے کی ضد پر سابق گورنر تتھاگت رائے کا تبصرہ

تتھاگت رائے کا کہنا ہے کہ ’’مجھے لگتا ہے ممتا بنرجی کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ ممتا بنرجی انتخاب ہار چکی ہیں اور انھیں عہدہ چھوڑنا ہی پڑے گا۔‘‘

تتھاگت رائے، تصویر آئی اے این ایس
تتھاگت رائے، تصویر آئی اے این ایس 

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ترنمول کانگریس کی شکست کے باوجود عہدہ سے استعفیٰ نہ دینے کا اعلان کر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ انھوں نے گزشتہ روز واضح لفظوں میں کہہ دیا کہ وہ گورنر ہاؤس جا کر اپنا استعفیٰ نامہ نہیں دیں گی، کیونکہ وہ ہاری نہیں ہیں، انھیں غلط طریقے سے ہرایا گیا ہے۔ اب اس معاملہ میں تریپورہ کےس ابق گورنر تتھاگت رائے نے اپنا تبصرہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’مجھے لگتا ہے ممتا بنرجی کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ ممتا بنرجی انتخاب ہار چکی ہیں اور انھیں عہدہ چھوڑنا ہی پڑے گا۔‘‘

Published: undefined

تتھاگت رائے نے یہ بیان خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس کے ساتھ بات چیت کے دوران دیا۔ انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’’ممتا بنرجی کا رویہ ایک چھوٹی بچی جیسا ہے۔ انھیں اپنے الزامات ثابت کرنے چاہئیں۔‘‘ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ’’آئین کے ڈھانچہ کو ممتا بنرجی تنہا نہیں گرا سکتی ہیں۔ 8 تاریخ کو موجودہ اسمبلی کی مدت کار ہی ختم ہو جائے گی۔ اصول کے مطابق اس کے بعد وزیر اعلیٰ کو عہدہ چھوڑنا ہی پڑتا ہے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ ’’اسمبلی کی مدت کار ختم ہوتے ہی از خود صدر راج نافذ ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد گورنر انتخاب میں جیتنے والی سب سے بڑی پارٹی کو بلائیں گے اور پھر نئی حکومت کی تشکیل ہوگی۔‘‘

Published: undefined

ممتا بنرجی کے ذریعہ الیکشن کمیشن اور بی جے پی پر لگائے جانے والے الزامات اور عہدہ نہ چھوڑنے کی ضد پر تتھاگت رائے نے حیرانی ظاہر کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’مجھے لگتا ہے کہ ممتا بنرجی کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ ممتا بنرجی انتخاب ہار چکی ہیں اور انھیں عہدہ چھوڑنا ہی پڑے گا۔‘‘ مغربی بنگال کے اسمبلی انتخاب میں الیکشن کمیشن کی کارکردگی سے متعلق اپنا نظریہ بیان کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’’یقیناً الیکشن کمیشن نے اچھے انداز میں انتخابی عمل پورا کیا ہے۔ مغربی بنگال میں انتخابی تشدد کو سی پی ایم نے 1960 سے بڑھانا شروع کیا تھا۔ ہر انتخاب کے وقت تشدد ہوتا رہا۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’1988 میں انتخاب کے وقت کانگریس کو ووٹ دینے پر کئی لوگوں کے ہاتھ کا پنجہ ہی کاٹ دیا گیا تھا۔ اس کے خلاف کانگریس نے بھی کوئی کارروائی نہیں کی۔ ٹی ایم سی کے وقت میں صرف انتخاب کے وقت ہی نہیں، کسی بھی وقت تشدد ہو جاتا تھا۔ حالانکہ الیکشن کمیشن نے حالیہ انتخاب کے وقت تشدد کو تقریباً پوری طرح روک دیا۔‘‘

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined