
ممتا بنرجی / آئی اے این ایس
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے جلپائی گوڑی میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی پر سخت حملہ کیا اور دعویٰ کیا کہ تمام تر دباؤ اور حملوں کے باوجود بنگال میں ایک بار پھر ان کی ہی جیت ہوگی۔ انہوں نے نعرہ دیا کہ چاہے جتنا بھی حملہ کر لو، بنگال پھر سے انہیں ہی منتخب کرے گا۔
ممتا بنرجی نے اپنے خطاب میں الزام لگایا کہ حقیقی ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے جا رہے ہیں، جس سے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں اور عوام کے حق رائے دہی کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
Published: undefined
انہوں نے شناخت اور شہریت کے مسئلے پر بھی بی جے پی کو نشانہ بنایا اور کہا کہ برسوں سے اسی سرزمین پر رہنے والے لوگوں کو غیر ملکی قرار دیا جا رہا ہے۔ ممتا نے سخت لہجے میں کہا کہ اگر کسی سے شہریت کا ثبوت مانگا جا رہا ہے تو پہلے الزام لگانے والے خود اپنی شہریت ثابت کریں، اس کے بعد دوسروں سے سوال کریں۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بھی الزام لگایا کہ بنگال کو کمزور کرنے اور تقسیم کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ شمالی بنگال کو الگ کرنے کی کوششوں کو انہوں نے بروقت روک دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ عوام کے حقوق کے لیے سڑک سے لے کر سپریم کورٹ تک لڑتی رہی ہیں اور آئندہ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گی۔
Published: undefined
جلسے کے دوران ممتا بنرجی نے انتخابی نتائج کو لے کر بھی اعتماد ظاہر کیا اور کہا کہ چار تاریخ کو ووٹوں کی گنتی کے بعد بی جے پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر ووٹ دیں اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کریں۔
مہنگائی کے مسئلے پر بھی ممتا بنرجی نے مرکز کی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور روزمرہ کی اشیاء مہنگی ہوتی جا رہی ہیں، جس سے عام آدمی پریشان ہے۔ ان کے مطابق ریاستی حکومت کے اختیارات محدود کر دیے گئے ہیں، لیکن ان کے پاس عوام کی طاقت ہے اور وہ اسی کے بل پر سیاست کر رہی ہیں۔
ممتا بنرجی نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ بنگال کے عوام باشعور ہیں اور وہ کسی بھی دباؤ میں آنے والے نہیں ہیں، اسی لیے ایک بار پھر ریاست میں ان کی جیت یقینی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined