
مغربی بنگال میں اسمبلی انتخاب ہارنے کے بعد سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو بری خبر ملنے کا جو سلسلہ شروع ہوا، تو وہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ تازہ خبر یہ ہے کہ ترنمول کانگریس کی راجیہ سبھا رکن سشمتا دیو نے راجیہ سبھا رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ساتھ ہی سشمتا نے پارٹی کو بھی خیر باد کہہ دیا ہے۔ ممتا بنرجی کی قریبی تصور کی جانے والی سشمتا نے آج ہی آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما سے ملاقات کی ہے، جس نے سیاسی ہلچل کو بہت بڑھا دیا ہے۔ اس ملاقات کے بعد قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں کہ وہ بی جے پی میں شمولیت اختیار کر سکتی ہیں۔ امکان یہ بھی ہے کہ بی جے پی انھیں آسام سے راجیہ سبھا بھیج سکتی ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ سشمتا دیو آسام کے سلچر کی رہنے والی ہیں۔ وہ 2014 کے لوک سبھا انتخاب میں کانگریس کی ٹکٹ پر سلچر سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ کانگریس نے انھیں مہیلا کانگریس کا صدر بھی بنایا تھا۔ سشمتا سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے مشہور لیڈر سنتوش موہن دیو کی بیٹی ہیں۔ 2021 میں وہ کانگریس چھوڑ کر ترنمول کانگریس میں شامل ہو گئی تھیں۔ اس کے ایک ماہ بعد ہی ممتا بنرجی نے انھیں راجیہ سبھا بھیج دیا تھا۔ وہ پارلیمنٹ کی کئی اہم کمیٹیوں میں بھی شامل تھیں اور خواتین کے ایشوز پر کھل کر اپنی بات رکھتی تھیں۔
Published: undefined
واضح رہے کہ مغربی بنگال کے اسمبلی انتخاب میں شکست کے بعد ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس پوری طرح بکھر گئی ہے۔ پہلے ہی ترنمول کے 58 اراکین اسمبلی باغی رخ اختیار کر چکے ہیں اور انھوں نے ممتا بنرجی کو چیلنج پیش کرتے ہوئے اسمبلی میں اپنا قائد حزب اختلاف رتبرت بنرجی کو بنوایا ہے۔ ترنمول کے تقریباً 20 لوک سبھا اراکین نے بھی ایک الگ گروپ بنا لیا ہے۔ ان اراکین پارلیمنٹ نے مرکزی وزیر بھوپیندر یادو کے گھر میٹنگ کی، جس میں بنگال کے وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری بھی موجود تھے۔ اس کے بعد راجیہ سبھا میں بھی ترنمول کانگریس ٹوٹ کا سامنا کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ پہلے شکھیندو شیکھر رائے نے راجیہ سبھا سے استعفیٰ دیا، اب سشمتا دیو نے بھی ایسا ہی قدم اٹھا کر ممتا کو شدید دھچکا دیا ہے۔ راجیہ سبھا میں ٹی ایم سی کے 13 اراکین موجود تھے، لیکن اب یہ تعداد گھٹ کر 11 ہو گئی ہے۔
Published: undefined