
ممتا بنرجی اور سویندو ادھیکاری، تصویر سوشل میڈیا
مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بھوانی پور اسمبلی انتخاب کے نتائج کو چیلنج کرتے ہوئے کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ اس انتخاب میں انہیں مغربی بنگال کے موجودہ وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری کے ہاتھوں 15105 ووٹوں کے فرق سے شکست ہوئی تھی۔ عرضی میں انتخاب سے متعلق تمام ریکارڈ اور دستاویزات کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ کئی دیگر قانونی اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس موقع پر ممتا بنرجی کے ساتھ ڈیریک اوبرائن، ڈولا سین اور کلیان بنرجی موجود تھے۔
Published: undefined
سابق وزیر اعلیٰ کے اس قدم کو ریاست کی سیاسی تاریخ میں غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ مسلسل دوسری بار ہے جب ممتا بنرجی نے ادھیکاری کے ہاتھوں شکست کے بعد انتخابی عرضی کے ذریعے ہائی کورٹ کا رخ کیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ممتا بنرجی کی جانب سے یہ نئی درخواست ایسے وقت میں داخل کی گئی ہے جب 2021 کے نندی گرام اسمبلی انتخاب کے نتائج کے خلاف ان کی پہلے سے دائر کردہ عرضی اب بھی عدالت میں زیر سماعت ہے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ بھوانی پور سیٹ پر ممتا بنرجی اور سوویندو ادھیکاری کے درمیان براہ راست مقابلہ تھا۔ اس سیٹ سے مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے جیت حاصل کی ہے، جبکہ ممتا بنرجی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس مقابلے میں سوویندو ادھیکاری نے ممتا بنرجی کو 15105 ووٹوں سے شکست دی تھی۔ اس سیٹ پر سوویندو ادھیکاری کو 73917 اور ممتا بنرجی کو 58812 ووٹ ملے تھے۔ تیسرے نمبر پر رہنے والے سی پی ایم کے شری جیب وشواس کو 3556 ووٹ ملے تھے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی ووٹوں کی گنتی کے دن 16 ویں اور 17 ویں راؤنڈ تک آگے ہی چل رہی تھیں، لیکن دونوں امیدواروں کے درمیان کا فرق آہستہ آہستہ کم ہوتا گیا۔ آخر کار گنتی کے آخری مراحل میں سوویندو ادھیکاری نے برتری حاصل کی اور 15105 ووٹوں سے انتخاب جیت گئے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined