قومی خبریں

دہلی اسمبلی کی سیکورٹی میں بڑی کوتاہی: گیٹ توڑ کر اندر داخل ہوئی نامعلوم کار، احاطہ میں گلدستہ رکھ نقاب پوش شخص فرار

دہلی سیکریٹریٹ کے ایک افسر نے کہا کہ ’’ڈرائیور اسمبلی اسپیکر وجیندر گپتا کے دفتر کی جانب بڑھا اور پیچھے ہٹنے سے قبل پورچ کے پاس پھولوں کا گلدستہ رکھا۔ بوکے میں کوئی مشکوک چیز نہیں ملی ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>

ویڈیو گریب

 

دہلی اسمبلی میں پیر (6 اپریل) کو سیکورٹی میں بڑی کوتاہی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ایک نامعلوم کار مین گیٹ سے ٹکرا کر کمپلیکس میں داخل ہو گئی، جس کے بعد اسٹاف اور سیکورٹی والوں میں افراتفری مچ گئی۔ افسران کے مطابق کار کے اندر سے ایک نقاب پوش شخص نیچے اترا اور ایک گلدستہ اسمبلی احاطے میں رکھ کر واپس لوٹ گیا۔

Published: undefined

دہلی پولیس کے مطابق اسمبلی میں داخل ہونے والی کار اترپردیش میں رجسٹرڈ ہے، جو کہ گیٹ نمبر 2 سے زبردستی اندر داخل ہوئی اور اس لوہے کے گیٹ کو توڑ دیا۔ ڈرائیور دہلی اسمبلی کے اسپیکر وجیندر گپتا کے دفتر کی جانب بڑھا اور برآمدے کے پاس پھولوں کا ایک گلدستہ رکھ دیا۔ اس واقعہ نے سیکورٹی کے حوالے سے سنگین تشویش کا اظہار کیا ہے اور افسران اسے سیکورٹی میں ممکنہ کوتاہی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ افسران کے مطابق ایک نقاب پوش آدمی کار چلا رہا تھا، جو دوپہر کے تقریباً 2 بجے اسمبلی احاطہ کے گیٹ نمبر 2 کو توڑ کر اندر داخل ہو گئی۔

Published: undefined

دہلی سیکریٹریٹ کے ایک افسر نے کہا کہ ’’ڈرائیور اسمبلی اسپیکر وجیندر گپتا کے دفتر کی جانب بڑھا اور پیچھے ہٹنے سے قبل پورچ کے پاس پھولوں کا گلدستہ رکھا۔ بوکے میں کوئی مشکوک چیز نہیں ملی ہے۔ وی آئی پی گیٹ پر سی آر پی ایف سیکورٹی میں تعینات تھے، اس کے بعد ڈرائیور فرار ہو گیا ہے۔ گاڑی کا نمبر یوپی-26 اے زیڈ 8090 ہے۔‘‘

Published: undefined

دہلی پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی تحقیقات شروع کی ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر ڈرائیور اور کار کی تلاش کی جا رہی ہے۔ افسران نے کہا کہ اس واقعہ سے سنگین سیکورٹی خدشات پیدا ہوئی ہیں اور اسے ممکنہ ’سیکورٹی بریچ‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ واقعہ حال ہی میں ختم ہوئے بجٹ سیشن کے دوران اسمبلی کو بم سے اڑانے کی دھمکی ملنے کے بعد ہوئی ہے، جس سے کمپلیکس کی سیکورٹی کو لے کر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined