
مدھیہ پردیش کے رائے سین ضلع سے سرکاری تعلیمی نظام کے ڈھلمل رویے اور بدانتظامی کی ایک حیران کر دینے والی تصویر سامنے آئی ہے۔ اودے پورہ واقع گورنمنٹ ساندیپنی اسکول میں جب اسکول بسوں کی قلت پیدا ہوئی تو اسکول انتظامیہ نے اپنی ناکامی چھپانے کے لیے پڑھائی کا ایک نیا ’الٹرنیٹ ڈے‘ فارمولہ تیار کر لیا۔ اسکول کی پرنسپل کی جانب سے جاری کیے گئے فرمان کے مطابق اب اس اسکول میں ایک دن لڑکے پڑھیں گے اور اگلے دن لڑکیاں۔ یعنی ’ڈیجیٹل انڈیا‘ اور ’اسمارٹ کلاس‘ کے اس دور میں بچوں کے حق تعلیم اور اسکول جانے کی راہ ’بسوں کی تعداد‘ طے کر رہی ہے۔
اودے پورہ واقع سان دیپنی اسکول میں رواں تعلیمی سال میں تقریباً 2,800 طلبا و طالبات نے داخلہ لیا ہے۔ دور دراز کے گاؤں سے آنے والے تقریباً 1,700 طلبا نے اسکول بس کی سہولت کا مطالبہ کیا تھا۔ ضابطوں کے مطابق ایک بس میں محفوظ طریقے سے صرف 55 سے 60 بچوں کو ہی بٹھایا جا سکتا ہے۔ اس حساب سے اسکول کی 16 بسوں میں بمشکل 1,000 بچے ہی سفر کر سکتے ہیں۔ باقی 700 بچوں کے لیے اضافی بسوں کا انتظام کرنے کے بجائے اسکول کی پرنسپل وندنا مشرا نے ایک اطلاع نامہ جاری کر دیا۔ حکم دیا گیا کہ بسوں کی کمی کے باعث اب طلبا اور طالبات باری باری ایک ایک دن چھوڑ کر ہی اسکول آئیں گے۔
اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگر کوئی طالب علم اپنی ذاتی سواری یا اپنے خرچ پر روزانہ اسکول آنا چاہے تو آ سکتا ہے۔ لیکن جو بچے مکمل طور پر سرکاری وعدوں اور انتظامات پر منحصر ہیں، انہیں اس نئے تعلیمی نظام کو ماننا ہوگا۔ اس انتظام کے تحت جو سبق پیر کو لڑکوں کو پڑھایا جاتا ہے، وہی سبق منگل کو لڑکیوں کے لیے دہرایا جاتا ہے۔ اس وجہ سے سرکاری بسوں پر منحصر بچے ہفتے میں محض 3 دن ہی اسکول کی چوکھٹ دیکھ پا رہے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔