قومی خبریں

مدھیہ پردیش: زہریلی شراب کے کاروباریوں کو عمر قید یا پھانسی کی سزا کا راستہ صاف، بل منظور

وزیراعلی شیوراج سنگھ چوہان کی صدارت میں ہوئی میٹنگ میں ایکسائز ایکٹ ترمیمی بل 2021 کو آئندہ اسمبلی اجلاس میں لانے کی منظوری دی گئی۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس 

بھوپال: مدھیہ پردیش کی کابینہ نے آج اس اہم ترمیمی بل کو منظوری دے دی جس میں زہریلی شراب کے کاروبار میں ملوث پائے جانے پر متعلقہ شخص یا لوگوں کو عمرقید یا پھانسی کی سزا کا التزام ہے۔وزیراعلی شیوراج سنگھ چوہان کی صدارت میں یہاں اختتام پذیر ہوئی میٹنگ میں ایکسائز ایکٹ ترمیمی بل 2021 کو آئندہ اسمبلی اجلاس میں لانے کی منظوری دی گئی۔ ترمیمی بل میں ہی اس طرح کے قصوروار پائے جانے والے لوگوں کو عمرقید یا پھر پھانسی کی سزا کا التزام کیا گیا ہے۔

Published: undefined

کابینہ کی میٹنگ کے بعد وزیر داخلہ نروتم مشرا نے میڈیا سے کہا کہ ریاست میں غیرقانونی شراب سے متعلق بڑھ رہی مجرمانہ سرگرمیوں پر روک لگانے کے لئے ترمیمی بل 2021 کو کابینہ نے منظوری فراہم کردی۔ اس میں ’ہیریٹیج مدیرا‘ کا نیا زمرہ بھی جوڑا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ایسی شراب جس کے استعمال سے کسی کی جان چلی جاتی ہے اس کے لئے قصوروار ثابت ہونے پر متعلقہ کو عمرقید اور پھانسی کی سزا کا التزام کیا گیا ہے۔ اب تک ایسے معاملات میں پانچ یا دس سال کی سزا کا التزام ہے۔ وہیں جرمانہ کی رقم دس لاکھ روپیوں سے بڑھا کر 20لاکھ کردی گئی ہے۔

Published: undefined

ریاست میں حال ہی میں مندسور ضلع میں بھی زہریلی شراب کے استعمال سے کم از کم چھ لوگوں کی موت کی خبر ہے۔ اس سے پہلے اجین اور کچھ دیگر اضلاع میں بھی زہریلی شرابی کے استعمال کی وجہ سے کم از کم دو درجن لوگوں کی موت کی خبر آئی تھی۔ ان تمام واقعات کے مدنظر اپوزیشن حکومت پر کافی حملہ آور ہوگئی تھی۔

Published: undefined

دوسری طرف اہم اپوزیشن جماعت کانگریس کے ریاستی صدر کملناتھ نے ٹوئٹ کرکے کہا کہ صرف قانون بنانے سے مافیا کبھی ختم نہیں ہوگا۔ قانون کا نفاذ نہایت ضروری ہے۔ حکومت کی مضبوط قوت ارادی نظر آنی چاہئے۔ سخت قانون کی بات تو بیٹوں کی حفاظت پر بھی حکومت کی طرف سے برسوں سے کی جا رہی ہے لیکن ریاست میں آج بھی بہن بیٹیاں محفوظ نہیں ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined