.jpg?rect=0%2C0%2C2000%2C1125)
حکومت کی طرف سے ایل پی جی وافر مقدار میں موجود ہونے کے دعوؤں کے باوجود عوام میں گیس کے حوالے سے گھبراہٹ اور پریشانی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ حد تو تب ہوگئی جب سلنڈر کی مارا ماری میں چور بھی سرگرم ہوگئے۔ اس اثنا میں مدھیہ پردیش کے کٹنی ضلع میں ایک چونکانے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ چوروں کے ایک گروہ نے بارواڑہ تھانہ علاقے میں ایک نہیں بلکہ 4 سرکاری اسکولوں کو نشانہ بنایا اور وہاں موجود ایل پی جی گیس سلنڈر پر ہاتھ صاف کردیا۔ اس واردات سے پورے علاقے میں کھلبلی مچ گئی ہے۔
Published: undefined
ملک کے عوام موجود وقت میں جہاں ایک طرف ایران اسرائیل جنگ کی وجہ سے ایل پی جی کی قلت سے پریشان ہیں وہیں اب دوسری طرف سلنڈر چوری کی واردات نے عوام کی مشکل اور پولیس کے لیے سردرد بڑھادیا ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے فی الحال جانچ شروع کردی ہے۔ ساتھ ہی اسکولوں میں سکیورٹی بڑھانے کا بھی حکم دیا ہے۔ اسکول کے پرنسپل نے اس سلسلے میں تحریری شکایت بھی درج کرائی ہے۔ اس واردات کے بعد اب بچوں کے دوپہر کے کھانا ’مڈ ڈے میل‘ پر بحران آسکتا ہے۔
Published: undefined
اطلاعات کے مطابق ضلع کے سرکاری سیکنڈری اسکول بھجیا ودیالیہ کے پرنسپل نے پولیس میں تحریری شکایت درج کرائی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ چور رات کے وقت اسکول میں گھس آئے اور گیس بھرے 4 سلنڈر چوری کر لیے۔ اسی رات گینگ نے بھجیا گرلز اسکول سے بھی ایک سلنڈر چوری کیا۔ گورنمنٹ سیکنڈری شالا اسکول پرسیل سے 3 سلنڈر چوری ہونے کی تحریری شکایت پولیس میں درج کرائی گئی ہے۔ پنشوکھر گورنمنٹ سیکنڈری اسکول میں بھی چوروں نے حملہ کرکے سلنڈر چوری کر لیے۔
Published: undefined
وہیں دوسری طرف سلنڈر کی بڑھتی ہوئی قلت کے درمیان ضلعی انتظامیہ نے کالا بازاری کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ انتظامیہ سخت رویہ اپناتے ہوئے مسلسل کارروائیاں کر رہی ہے لیکن اسکولوں میں ہونے والی ان چوریوں نے سکیورٹی انتظامات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
Published: undefined
معاملے کی سنگینی کے بارے میں کٹنی کے پولیس سپرنٹنڈنٹ ابھینو وشوکرما نے بتایا کہ مختلف اسکولوں سے سلنڈر چوری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ تمام معاملات میں ایف آئی آر درج کی جا رہی ہیں۔ پولیس ٹیمیں متحرک ہیں جلد اس گینگ کو بے نقاب کرکے ملزمان کو سلاخوں کے پیچھے بھیجا جائے گا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined