قومی خبریں

ایل پی جی بحران: پھر ملی بری خبر، دیہی علاقوں میں 25 کی جگہ اب 45 دنوں میں ہوگی گیس سلنڈر کی بکنگ!

2 دن قبل ہی مرکزی حکومت نے جمع خوری اور کالابازاری روکنے کے مقصد سے ایل پی جی سلنڈر بکنگ کے اصول میں تبدیلی کی تھی۔ ایل پی جی گیس سلنڈر کی بکنگ کا وقت 21 دنوں سے بڑھا کر 25 دن کیا گیا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>گیس سلنڈر، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

گیس سلنڈر، تصویر آئی اے این ایس

 

امریکہ و اسرائیل نے ایران کے خلاف جو جنگ شروع کی ہے، اس نے ہندوستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں ایندھن کی قلت پیدا کر دی ہے۔ حالانکہ حکومت ہند نے ایندھن کی قلت سے انکار کیا ہے، لیکن ملک کے مختلف علاقوں میں خاص طور سے ایل پی جی سلنڈر حاصل کرنے کے لیے جو ہنگامہ برپا ہے، وہ کچھ الگ ہی حالات بیان کر رہا ہے۔ اب ایک بری خبر یہ سامنے آئی ہے کہ دیہی علاقوں میں ایل پی جی سلنڈر کی بکنگ کا وقت 25 دنوں سے بڑھا کر 45 دن کر دیا گیا ہے۔

Published: undefined

شہری علاقوں میں سلنڈر بکنگ سے متعلق کوئی نئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔ دیہی علاقوں میں جہاں گیس کی بکنگ اب 45 دن میں کی جا سکے گی، وہیں شہری علاقوں میں 25 دن کے اندر ہی سلنڈر ملے گا۔ کہا جا رہا ہے کہ گیس کی کمی سے متعلق افواہوں کے سبب لوگ جلدی جلدی سلنڈر بھروا رہے ہیں، اسی حالات سے نمٹنے کے لیے تازہ فیصلے لیے گئے ہیں۔

Published: undefined

واضح رہے کہ 2 دن قبل مرکزی حکومت نے جمع خوری اور کالا بازاری روکنے کے مقصد سے ایل پی جی سلنڈر بکنگ کے قواعد میں تبدیلی کی تھی۔ ایل پی جی گیس سلنڈر کی بکنگ کا وقت بڑھا کر 21 دنوں کے بجائے 25 دن کر دیا گیا تھا۔ دراصل وسطی ایشیا میں جاری جنگ کے درمیان آبنائے ہرمز بند ہونے سے ایل پی جی گیس کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔

Published: undefined

مرکزی وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس کی جانب سے یہ فیصلہ اس لیے لیا گیا تھا کیونکہ گھریلو صارفین محض 15 دن کے وقفے کے بعد ہی ایل پی جی سلنڈر بک کرا رہے تھے۔ یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ پہلے 55 دن میں سلنڈر بک کراتے تھے، انہوں نے اب 15 دن میں ہی سلنڈر بک کرنا شروع کر دیا تھا۔ یعنی لوگ افواہوں اور غیر یقینی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے احتیاطاً گیس کی بکنگ جلد کرا رہے تھے، تاکہ آنے والے وقت میں انھیں دقتوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

Published: undefined

ملک میں گیس سپلائی متاثر ہونے کی خبروں کے درمیان وزارت پیٹرولیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ گھریلو کھانا پکانے والی گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہمارے پاس وافر ذخیرہ موجود ہے۔ لوگوں کو گھبراہٹ میں آ کر سلنڈر بک کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وزارت نے یہ بھی کہا کہ گھریلو ریفائنری کمپنیوں نے بھی ایل پی جی کی پیداوار 25 فیصد تک بڑھا دی ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان آبنائے ہرمز کے راستے سپلائی متاثر ہونے کے بعد نئے ذرائع سے خام تیل حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہا ہے۔

Published: undefined

وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس میں جوائنٹ سکریٹری سجاتا شرما نے کل اپنے بیان میں کہا تھا کہ حکومت کی کوشش گھروں تک بلا رکاوٹ توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے۔ ہندوستان اپنی ایل پی جی ضرورت کا تقریباً 60 فیصد حصہ درآمد کرتا ہے اور اس کا 90 فیصد درآمد آبنائے ہرمز کے راستے ہی آتا ہے۔ ایسے میں گیس سپلائی متاثر ہونے کی صورت میں حکومت نے تجارتی اداروں کے مقابلے میں گھریلو استعمال کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے گھریلو صارفین کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے صنعتی و تجارتی شعبوں کو ملنے والی ایل پی جی اور ایل این جی کی سپلائی میں کمی کی ہے، تاکہ 33 کروڑ سے زیادہ گھروں تک کھانا پکانے والی گیس کی باقاعدہ فراہمی برقرار رکھی جا سکے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined