قومی خبریں

گورکھپور میں رسوئی گیس کے لیے لگی ہیں لمبی قطاریں، ویڈیو شیئر کر کانگریس نے مودی حکومت پر کیا سخت حملہ

کانگریس کا کہنا ہے کہ شدید گرمی اور مچھروں کے درمیان لوگ سڑک کنارے مچھر دانیاں لگا کر رات گزار رہے ہیں تاکہ اپنی باری آنے پر ایل پی جی سلنڈر لے سکیں۔

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>

ویڈیو گریب

 

اتر پردیش کے گورکھپور سے سامنے آنے والی ایک ویڈیو نے ایک بار پھر رسوئی گیس کے بحران کو سامنے لا دیا ہے۔ کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر ایک ویڈیو شیئر کی ہے، جس میں لوگ ایل پی جی سلنڈر کے لیے پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔ ان حالات کے لیے کانگریس نے مرکزی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی پر شدید تنقید کی ہے۔ ویڈیو میں لوگوں کو مبینہ طور پر رسوئی گیس سلنڈر حاصل کرنے کے لیے رات کے وقت طویل قطاروں میں انتظار کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

Published: undefined

کانگریس نے اپنے سوشل میڈیا پوسٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ گورکھپور میں لوگ رسوئی گیس کے لیے پوری رات لائنوں میں کھڑے رہنے پر مجبور ہیں۔ پارٹی نے یہ بھی کہا کہ شدید گرمی اور مچھروں کے درمیان لوگ سڑک کنارے مچھر دانیاں لگا کر رات گزار رہے ہیں تاکہ اپنی باری آنے پر ایل پی جی سلنڈر لے سکیں۔

Published: undefined

کانگریس نے اس واقعہ کو مہنگائی اور عوامی مشکلات سے جوڑتے ہوئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’ایک طرف عام لوگ بنیادی ضرورتوں کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف وزیر اعظم نریندر مودی پرتعیش طرز زندگی گزار رہے ہیں۔‘‘ پارٹی نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مہنگے غیر ملکی دورے کر رہے ہیں اور انھیں اس بات کی ذرا بھی فکر نہیں کہ عوام کو کن مسائل کا سامنا ہے۔

Published: undefined

کانگریس نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ عوام روزمرہ کی ضروریات کے لیے پریشان ہے، لیکن حکومت ان مسائل پر سنجیدگی سے توجہ نہیں دے رہی۔ پوسٹ کے آخر میں پارٹی نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے حکومت پر عوامی مشکلات کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا۔

Published: undefined

یہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی مختلف ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کچھ صارفین نے گیس کی دستیابی اور تقسیم کے نظام پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ بعض لوگوں نے اس پورے معاملے پر وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔ مقامی انتظامیہ یا متعلقہ حکام کی جانب سے اس ویڈیو کے بارے میں فوری طور پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined