
لکھنؤ: لوک سبھا میں بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) سے ٹکٹ نہ ملنے سے دلبرداشتہ رائے بریلی سے سابق بی جے پی امیدوار اجے اگروال نے وزیر اعظم نریندر مودی پر سنگین الزامات لگاتےہوئے دعوی کیا کہ موجودہ انتخابات میں بی جے پی اترپردیش میں کم سے کم سیٹوں پر سمٹ جائے گی۔
اگروال نے جمعرات کو کہا کہ ’’ میں نے گذشتہ دس اپریل کو وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھ کر ان سے بوفورس معاملے میں اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی کا نام اپنے سیاسی فائدے کے لئے استعمال کرنے کا الزام لگایا تھا ۔ اور اس بات کا بھی حوالہ دیا تھا کہ اس معاملے میں میں نے جموں و کشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک کو بھی خط لکھا تھا۔ ملک نے انہیں فون کر کے راجیو گاندھی کو ایماندار بتایا تھا۔
اگروال نے کہا کہ مودی حکومت کی نوٹ بندی کے ’’تغلقی فرمان‘‘ نے ملک کی معیشت کو خاصا نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ صدر جمہوریہ عہدے کے لئے لال کرشن اڈوانی ہی اصل مستحق تھے لیکن ووٹ کی لالچ میں ان کو اس عہدے سے دور رکھا گیا۔
اگروال نے مزیدکہا کہ عوامی مقبولیت کے باوجود رائے بریلی سے ٹکٹ کاٹ دیا گیا میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ 400 سیٹیں جیتنے کے بجائے بی جے پی کا دعوی فضول ہے۔ اگر صاف و شفاف اور غیرجانبدارانہ انتخابات منعقد ہوئے تو آپ ملک بھر میں 40 سیٹوں پر بھی سمٹ سکتے ہیں۔ میں نے اپنے اور محنتی کارکنوں کے دم پر محترمہ گاندھی کو چیلنج دینے کا کام کیا تھا۔
اب پارٹی نے رائے بریلی کو ٹکٹ ایسے شخص کو دے دیا جو کچھ وقت پہلے کانگریس چھوڑ کر آیا تھا۔ حقیقت میں یہ کانگریس جس کو اپنی پارٹی سے نکالنے والی تھی کیونکہ اس کے اوپر زمینی کے غیرقانونی قبضے، غبن، درجنوں مجرمانہ مقدمے درج ہیں۔
نئی دہلی: الیکشن کمیشن نے مدھیہ پردیش کے جبل پور ضلع میں قابل اعتراض بیان کے معاملے میں کانگریس کے صدر راہل گاندھی کو کلین چٹ دیتے ہوئے اسے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں مانا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے جبل پور کے سيهورا میں گاندھی کی تقریر کے سلسلے میں کمیشن سے شکایت کی تھی۔
کمیشن نے اس سلسلے میں جبل پور ضلع الیکشن افسر سے تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی۔ الیکشن افسر کے ذریعہ گاندھی کی تقریر کا مطالعہ کرنے کے بعد کمیشن نے پایا کہ گاندھی نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔
سرسا: ہریانہ کانگریس کے صدر اور سرسا پارلیمانی حلقہ سے کانگریس امیدوار ڈاکٹر اشوک تنور نے آج کہا کہ اترپردیش کے بنارس سے سابق فوجی تیج بہادر کی نامزدگی رد کرنا ظاہر کرتا ہے کہ مودی حکومت ہٹلر شاہی رویہ اپنا رہی ہے۔
انہوں نے یہاں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج تیج بہادر جیسے لوگ اصلی چوکیدار ہیں، جنہوں نے پہلے سرحد پر ملک کی حفاظت میں اپنا اہم کردار ادا کیا اور اب جمہوریت کو بچانے کی جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں لیکن نریندر مودی اور امت شاہ جیسے لوگ آمرانہ طریقے سے لوگوں کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سپریم کورٹ نے انتخابی کمیشن سے کہا ہے کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کو لے کر کانگریس کے ذریعہ وزیر اعظم مودی اور امت شاہ کے خلاف کی گئی 9 شکایتوں پر 6 مئی سے پہلے فیصلہ لے۔
کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اس طرح کے الزامات کو سرے سے خارج کر دیا کہ وہ بی جے پی کو فائدہ پہنچا رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کی جگہ میں مرنا پسند کروں گی۔ دراصل اتحاد کے امیدواروں کے سامنے کانگریس نے کئی مضبوط امیدوار کھڑے کیے ہیں جس سے کئی لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ووٹوں کی تقسیم ہوگی جس کا فائدہ بی جے پی کو پہنچے گا۔ لیکن اس تعلق سے پرینکا گاندھی کا کہنا ہے کہ جہاں بھی کانگریس نے مضبوط امیدوار کھڑے کیے ہیں وہاں کانگریس امیدوار کامیابی کے جھنڈے گاڑیں گے، نہ کہ کسی کا ووٹ کاٹیں گے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دئے جانے کے بعد مایاوتی نے بی جے پی اور مودی حکومت پر حملہ بولا ہے۔ بی ایس پی سربراہ نے کہا، ’’پہلے بی جے پی حکومت نے مسعود اظہار کو مہمان بنایا اور بعد میں اسے رہا کر دیا۔ اب انتخابات میں اسی کے نام پر ووٹ جٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ قابل مذمت ہے۔‘‘
سپریم کورٹ نے انتخابی کمیشن سے کہا ہے کہ رمضان میں 7 بجے کی جگہ 5 بجے صبح ووٹنگ شروع کرنے پر غور کرے۔ عدالت میں اس سلسلے میں عرضی داخل کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گرمی کی شدت کی وجہ سے بھی ووٹروں کو دقت ہوگی اس لیے راجستھان اور دوسرے علاقوں میں صبح سویرے ووٹنگ کرائے جانے سے متعلق فیصلہ لیا جائے۔
آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندرا بابو نائیڈو نے مودی حکومت کے خاتمہ کا دعویٰ کرتے ہوئے میڈیا سے کہا ہے کہ نیا وزیر اعظم کون ہوگا، اس کا فیصلہ اپوزیشن پارٹیاں میٹنگ کر کے مشترکہ طور پر کریں گی۔ نائیڈو نے کہا کہ ابھی تین مراحل کے پولنگ باقی ہیں اور اس کے بعد ہی اپوزیشن پارٹیاں ایک ساتھ بیٹھیں گی اور نئے وزیر اعظم کے تعلق سے کوئی بات ہوگی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 02 May 2019, 9:10 AM IST