قومی خبریں

بائیں بازو نے جے این یو طلبہ یونین کے انتخابات میں چاروں عہدوں پر کامیابی حاصل کی

جے این یو میں چار سال بعد طلبہ یونین کے انتخابات ہوئے۔ اس الیکشن میں شروع میں اے بی وی پی تمام سیٹوں پر آگے تھی لیکن آخر کار نتیجہ میں بائیں بازو کے حق میں آئے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل سوشل میڈیا تصویر</p></div>

فائل سوشل میڈیا تصویر

 

دہلی کی باوقار جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے طلبہ یونین کے انتخابات میں بائیں بازو کےچاروں  امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔ بائیں بازو کے دھننجے نے صدر کے عہدے پر اور اویجیت گھوش نے نائب صدر کے عہدے پر کامیابی حاصل کی ہے۔واضح رہے کہ ابتدائی رجحانات میں اے بی وی پی چاروں سیٹوں پر آگے تھی لیکن آخر میں وہ پچھڑ گئی ۔

Published: undefined

واضح رہےبائیں بازو کے امیدوار دھننجے کو جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کے صدر کے عہدے کے لیے کل 2598 ووٹ ملے۔ وہیں اے بی وی پی امیدوار امیش چندر اجمیرا کو 1686 ووٹ ملے۔ اس کے علاوہ نائب صدر کے عہدے کے لیے بائیں بازو کے امیدوار نے بڑے فرق سے کامیابی حاصل کی۔ اویجیت گھوش کو 2409 ووٹ ملے اور اے بی وی پی امیدوار دیپیکا شرما کو 1482 ووٹ ملے۔

Published: undefined

صدر کے عہدے کے لیے بائیں بازو کا جیتنے والا امیدوار دھننجے اسکول آف آرٹس اینڈ ایستھیٹکس سے پی ایچ ڈی کا طالب علم ہے۔ دھننجے گیا بہار کے رہنے والے ہیں اور دلت برادری سے آتے ہیں۔ ان کے والد ریٹائرڈ پولیس اہلکار ہیں۔ تقریباً 27 سال بعد، دلت برادری کے ایک امیدوار نے جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کے صدر کے عہدے پر کامیابی حاصل کی ہے۔

Published: undefined

واضح رہےجے این یو اسٹوڈنٹس یونین انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کے دوران بائیں بازو کے حامیوں میں زبردست جوش و خروش دیکھا گیا۔ بائیں بازو کے امیدواروں کی برتری کو دیکھ کر طلبہ 'پورا کیمپس سرخ ہے' کے نعرے لگاتے رہے۔

Published: undefined

اسٹوڈنٹ یونین کے انتخابات میں جنرل سکریٹری کی سیٹ کے لیے کھڑے ارجن آنند ، اے بی وی پی،کو کل 1961 ووٹ ملے۔ وہیں پریانشی آریہ 2887 ووٹ لے کر کامیاب ہوئیں۔ پریانشی (باپسا، بائیں بازو کی حمایت کرنے والی) امیدوار ہیں۔ وہیں جوائنٹ سکریٹری کے عہدے کے لیے مقابلہ کرنے والے گووند ڈانگی (اے بی وی پی) نے 2066 ووٹ حاصل کیے جبکہ محمد ساجد (بائیں) نے کل 2575 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined