
رابڑی دیوی، تصویر/آئی اے این ایس
دہلی ہائی کورٹ نے پیر کو سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کو بہار کی سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی کے ذریعہ دائر ایک عرضی پر نوٹس جاری کیا ہے۔ اس میں انہوں نے ٹرائل کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا ہے، جس میں مبینہ طور پر ’ریلوے میں زمین کے بدلے نوکری‘ بدعنوانی معاملہ میں استغاثہ کی جانب سے جن دستاویزات پر بھروسہ نہیں کیا گیا تھا، انہیں فراہم کرانے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ معاملے کی مختصر سماعت کے بعد جسٹس منوج جین کی یک رکنی بنچ نے سی بی آئی سے جواب طلب کیا اور معاملے کو یکم اپریل کو آئندہ کی سماعت کے لیے درج کر دیا۔
Published: undefined
اپنی عرضی میں رابڑی دیوی نے ٹرائل کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا ہے، جس نے ان دستاویزات تک رسائی دینے سے انکار کر دیا تھا جن پر بھروسہ نہیں کیا گیا تھا اور دہلی ہائی کورٹ سے مناسب راحت کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ واقعہ تب سامنے آیا جب دہلی کی ایک عدالت نے آر جے ڈی کے سربراہ لالو پرساد، رابڑی دیوی اور دیگر ملزمان کی ان درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا، جن میں سی بی آئی کی جانب سے درج معاملے کے متعلق ان دستاویزات کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا تھا، جنہیں اب تک فراہم نہیں کیا گیا تھا۔
Published: undefined
واضح رہے کہ راؤز ایونیو کورٹ کے خصوصی جج (پی سی ایکٹ) وشال گوگنے نے لالو پرساد یادو اور رابڑی دیوی کے ساتھ ساتھ دیگر ملزمان کی جانب سے ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ 91 کے تحت دائر الگ الگ درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ مانا تھا کہ ان دستاویزات کا مطالبہ غیر مستحکم تھا اور فوجداری مقدمے کے ضوابط کے خلاف تھا۔
Published: undefined
ٹرائل کورٹ نے یہ کہا تھا کہ جن دستاویزات پر بھروسہ نہیں کیا گیا، ان کا مطالبہ بطور حق نہیں کیا جا سکتا اور انہیں صرف مقدمے کے مناسب مرحلے پر ہی مانگا جا سکتا ہے، عام طور پر اس وقت جب فریق صفائی کے ثبوت پیش کیے جا رہا ہوں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ ملزمان کو ان دستاویزات کی فہرست حاصل کرنے کا حق ہے جن پر بھروسہ نہیں کیا گیا ہے، لیکن وہ استغاثہ کے ثبوتوں کے آغاز میں ہی ان تمام دستاویزات کا مطالبہ تب تک نہیں کر سکتے جب تک کہ وہ ان کی ضرورت و اہمیت کو ثابت نہ کر دیں۔
Published: undefined
تمام 1675 ایسے دستاویزات طلب کرنے والی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ نے یہ کہا کہ اس طرح کی درخواست سے مقدمے کی کارروائی میں رکاوٹ پیدا ہوگی اور قانونی منصوبہ درہم برہم ہو جائے گا۔ عدالت نے کہا کہ یہ درخواست آغاز میں ہی مقدمے کو ایک پیچیدہ جال میں پھنسانے کی نیت سے کی گئی معلوم ہوتی ہے، اور خبردار کیا کہ ایسی درخواستوں کو قبول کرنے سے ’کبھی نہ ختم ہونے والی جرح‘ شروع ہو سکتا ہے۔ یہ معاملہ ان الزامات سے متعلق ہے کہ 2004 سے 2009 کے درمیان وزیر ریل کے طور پر اپنی مدت کار کے دوران لالو پرساد یادو نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے ریلوے میں بھرتیاں کیں، جس کے بدلے میں ان کے خاندان کے اراکین یا ان سے وابستہ اداروں کو زمین کے ٹکڑے منتقل کیے گئے۔
Published: undefined
سی بی آئی کے مطابق امیدواروں یا ان کے رشتہ داروں نے مبینہ طور پر مارکیٹ ریٹ سے کم قیمتوں پر زمینیں منتقل کیں، جو ریلوے کے مختلف زون میں ملازمتوں کے بدلے دی گئی تھیں۔ حالانکہ لالو پرساد یادو اور ان کے اہل خانہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور خود کو بے قصور قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ اس معاملہ کو اس کے میرٹ کی بنیاد پر لڑیں گے۔ اسی درمیان دہلی ہائی کورٹ نے رواں ماہ کے شروع میں سی بی آئی کو ایک نوٹس جاری کیا ہے۔ یہ نوٹس لالو پرساد یادو کی جانب سے دائر ایک درخواست پر دیا گیا تھا، جس میں انہوں نے ٹرائل کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا جس میں اس معاملہ میں الزامات طے کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ جنوری میں ٹرائل کورٹ نے لالو پرساد یادو اور ان کے خاندان کے کئی ارکان کے خلاف الزامات طے کیے تھے۔ عدالت نے اس وقت یہ کہا تھا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک مجرمانہ گروہ کے طور پر کام کر رہے تھے اور مبینہ طور پر سرکاری ملازمتوں کو غیر منقولہ جائیدادیں حاصل کرنے کا ایک ذریعہ بنا رہے تھے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined