قومی خبریں

بہار میں سیلاب: لالو یادو نے پرانی پارلیمانی ویڈیو شیئر کیا، کہا- ’مفت اناج نہیں، مستقل حل چاہیے‘

لالو یادو نے بہار کے سیلاب پر پارلیمنٹ کی پرانی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے مرکز سے مستقل حل، دریاؤں کی دیکھ بھال کے لیے فنڈ اور بہار کو اس کے حصے کی رقم دینے کا مطالبہ کیا

<div class="paragraphs"><p>لالو پرساد یاد / آئی اے این ایس</p></div>

لالو پرساد یاد / آئی اے این ایس

 

پٹنہ: بہار میں سیلاب کی سنگین صورتحال کے درمیان راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے قومی صدر لالو یادو نے پارلیمنٹ کا ایک پرانی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے بہار کے لیے اپنی سیاسی جدوجہد کو یاد کیا۔ انہوں نے مرکز سے ریاست میں سیلاب کے مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنے، دریاؤں کی دیکھ بھال کے لیے مناسب مالی امداد فراہم کرنے اور بہار کو اس کے حصہ کی رقم دینے کا مطالبہ کیا۔

سابق مرکزی وزیر لالو یادو نے اپنے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً ایک دہائی بعد ایک بار پھر شدید سیلاب کا سامنا کر رہے بہار میں حکومت کا خزانہ خالی ہے اور مالی دباؤ عروج پر ہے۔ ایسے وقت میں انہیں سڑک سے لے کر پارلیمنٹ تک بہار اور بہاریوں کے حقوق کے لیے کی گئی اپنی سیاسی جدوجہد کی یاد آ رہی ہے۔

لالو یادو نے مرکز کی سابقہ حکومتوں پر بہار کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ اٹل بہاری واجپئی کی حکومت میں بہار سے تقریباً ایک درجن کابینی وزیر تھے، لیکن اس کے باوجود ریاست کو اس کے حصے کا بجٹ نہیں ملا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پانچ سالہ منصوبوں میں بھی بہار کے لیے رقم روکنے کی کوشش کی جاتی تھی اور اس وقت ریاستیں براہ راست قرض بھی نہیں لے سکتی تھیں۔

آر جے ڈی صدر نے کہا کہ 2004 میں آر جے ڈی کے 24 ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ یو پی اے-1 کی حکومت میں ریلوے کا وزیر بننے کے بعد انہوں نے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو بہار کی ترقی کے لیے استعمال کیا۔ ان کے مطابق 2004 سے 2009 کے درمیان اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ اور کانگریس کی اس وقت کی صدر سونیا گاندھی سے بہار کے ترقیاتی کاموں کے لیے تقریباً 1.44 لاکھ کروڑ روپے کی رقم حاصل کی گئی۔

لالو یادو نے کہا کہ 2005 کے بعد اس رقم سے بہار میں ترقیاتی کام آگے بڑھائے گئے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور بی جے پی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب واجپئی حکومت میں بہار سے کئی کابینی وزیر تھے، تب بھی ریاست کے لیے مرکز سے خاطر خواہ مدد نہیں لائی گئی۔

سیلاب کے مسئلے پر لالو یادو نے کہا کہ نیپال سے آنے والے سیلاب اور اس کے مستقل حل کے لیے وہ ہمیشہ کوشش کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شیئر کی گئی پارلیمانی ویڈیو 2011 کی ہے، جب مرکز میں یو پی اے-2 حکومت اور بہار میں بی جے پی کے ساتھ نتیش کمار کی حکومت تھی۔ اس کے باوجود انہوں نے دہلی میں بہار کے سیلاب اور دریاؤں کی دیکھ بھال کا مسئلہ اٹھایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اقتدار کے لیے انہوں نے کبھی اپنا کردار، چہرہ، طرزِ عمل یا نظریہ نہیں بدلا۔ لالو یادو نے کہا کہ آج مرکز میں این ڈی اے-3 اور بہار میں این ڈی اے-5 کی حکومت ہے، لیکن مسائل کا مستقل حل تلاش کرنے کے بجائے بہانے بنائے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات اور سیلاب کے دوران مفت اشیا یا دو کلو مفت اناج دینے کے اعلانات کے بجائے سیلاب کے مسئلے کا مستقل حل تلاش کیا جانا چاہیے۔ لالو یادو نے مرکز اور نیپال کے درمیان دریاؤں کی دیکھ بھال کے معاملے پر واضح بات چیت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بہار کسی سے بھیک نہیں مانگ رہا، بلکہ اپنے تعاون اور حصے کے مطابق مالی وسائل کا مطالبہ کر رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔