
کانگریس لیڈر پون کھیڑا، تصویر قومی آواز / وپن
کولکاتہ میونسپل کارپوریشن نے سہروردی ایونیو روڈ کا نام بدل کر گوپال مکھرجی روڈ کر دیا ہے۔ اس معاملے پر وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری نے کہا کہ ’یوم مغربی بنگال‘ پر کولکاتہ کی تاریخی غلطی میں اصلاح کی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’’بے گناہ شہریوں کا قتل عام کروانے والے سہروردی کی جگہ اب لوگوں کی جان بچانے والے گوپال مکھرجی کے نام پر روڈ کا نام رکھا گیا ہے‘‘۔ اس معاملے پر کانگریس رکن پارلیمنٹ پون کھیڑا نے کہا کہ سویندو ادھیکاری حسن شاہد سہروردی اور حسین سہروردی کے درمیان کنفیوز ہو گئے۔
Published: undefined
سویندو ادھیکاری نے سڑک کا نام تبدیل کیے جانے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’میں ’پشچم بنگ دیوس‘ کے خاص موقع پر کل کولکاتہ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے کئے گئے اس فیصلے کی ستائش کرتا ہوں جو ایک تاریخی غلطی کی اصلاح کرنے میں اہم رول ادا کرے گا۔ اب سہروردی ایونیو کا نام بدل کر گوپال مکھرجی روڈ کر دیا جائے گا۔‘‘
Published: undefined
انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں تک ہمارے شہر کی ایک اہم سڑک ایسے شخص کے نام سے منسوب رہی جس نے صرف سیاسی فائدے کے لیے ریاست کے اقتدار کو ہتھیار کی طرح استعمال کیا اور بے گناہ شہریوں کا قتل عام کروایا۔ اب اس سڑک کا نام بدل کر شری گوپال مکھرجی کے نام پر رکھا جا رہا ہے، وہ بہادر شخص جنہوں نے ہزاروں بے گناہ لوگوں کی جان بچانے کے لیے محافظ کا کردار ادا کیا تھا۔ اس طرح ایک سچے محافظ اور حفاظت کرنے والے کو اعزاز دے کر ہی انصاف ہوسکے گا۔ اب وقت آگیا ہے کہ مغربی بنگال اصلی ہیروز کو یاد کرے، اپنی غلطیوں کی اصلاح اور ان کا احترام کرے۔
Published: undefined
اس دوران بنگال کے وزیر اعلیٰ کی پوسٹ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور میڈیا انچارج پون کھیڑا نے لکھا کہ ’’سویندو دا، آپ نے یہ کیا کردیا؟‘‘۔ انہوں نے مزید لکھا کہ ’’خواتین و حضرات، یہ مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ ہیں، وہ اور ان کی پوری حکومت مغربی بنگال کی نمائندگی کرنے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن وہ حسن شاہد سہروردی، جو ایک عالم، ماہر تعلیم، آرٹ نقاد اور کلکتہ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر تھے۔ حسین سہروردی، جنہیں ’بنگال کا قصائی‘ کہا جاتا ہے، ان کے درمیان الجھن میں پڑ گئے۔ اسی کنفیوزن (الجھن) میں انہوں نے حسن شاہد سہروردی کے نام سے منسوب سڑک کا نام بدل دیا‘‘۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined