قومی خبریں

کولکاتا آتشزدگی: مرنے والوں کی تعداد 25 ہو گئی، کئی افراد اب بھی لاپتا

کولکاتا کے آنندپور میں آتش زدگی سے مرنے والوں کی تعداد 25 ہو گئی۔ کئی افراد لاپتا ہیں۔ قومی انسانی حقوق کمیشن نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے انتظامی ناکامیوں پر رپورٹ طلب کر لی ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

کولکاتا: مغربی بنگال کی راجدھانی کولکاتا کے آنندپور علاقے میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 25 ہو گئی ہے۔ آئی اے این ایس نے ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ محکمے سے وابستہ ذرائع کے حوالہ سے رپورٹ کیا کہ ایک شخص کی موت کی تصدیق کے بعد یہ تعداد بڑھی ہے، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا بتائے جا رہے ہیں، جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Published: undefined

یہ حادثہ 26 جنوری کی صبح آنندپور میں واقع ایک گودام میں پیش آیا، جہاں آگ لگنے کے وقت کئی مزدور اندر سو رہے تھے۔ اچانک آگ بھڑک اٹھنے کے باعث وہ مزدور باہر نکلنے کا موقع نہ پا سکے اور بڑی تعداد میں اس کی زد میں آ گئے۔ فائر بریگیڈ کی کئی گاڑیوں نے گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا، جبکہ بعد میں فورنسک ٹیموں نے بھی موقع پر پہنچ کر جانچ شروع کی۔

Published: undefined

ریاستی فائر سروس اور فورنسک ٹیم کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آگ قریبی واو مومو فیکٹری سے نہیں بلکہ ساتھ واقع پوشپانجلی ڈیکوریٹر کے گودام سے لگی تھی۔ تاہم، واقعے کے بعد گرفتار کیے گئے پوشپانجلی ڈیکوریٹر کے گودام کے مالک گنگا دھر داس نے دعویٰ کیا ہے کہ آگ سب سے پہلے مومو فیکٹری میں لگی اور بعد میں پھیل گئی۔ اس تضاد نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور تفتیشی ایجنسیاں مختلف پہلوؤں سے جانچ میں مصروف ہیں۔

Published: undefined

ادھر قومی انسانی حقوق کمیشن نے اس واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے ضلع مجسٹریٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ جلد از جلد کارروائی رپورٹ جمع کرائیں۔ کمیشن کے مطابق ایک شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس حادثے میں واو مومو فیکٹری کے انتظامیہ کی مجرمانہ لاپروائی کے ساتھ ساتھ فائر سروس، محنت کشوں کے محکمے، شہری منصوبہ بندی کے اداروں اور مقامی انتظامیہ کی سنگین ضابطہ جاتی ناکامی بھی شامل ہے۔ کمیشن نے فیکٹری ایکٹ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کی خلاف ورزیوں کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ معاملہ متاثرین کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا معلوم ہوتا ہے۔

Published: undefined

سیاسی سطح پر بھی اس واقعے پر ردعمل سامنے آیا ہے۔ مغربی بنگال اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سوویندو ادھیکاری نے آنندپور علاقے میں احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ ابتدا میں پولیس نے اجازت دینے سے انکار کیا تھا، تاہم بعد میں کلکتہ ہائی کورٹ نے کچھ شرائط کے ساتھ احتجاج کی اجازت دے دی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined