قومی خبریں

کولکاتا: نمازِ جمعہ کے دوران 2 گروپ میں تصادم، راجہ بازار علاقہ پولیس چھاؤنی میں تبدیل

بتایا جا رہا ہے کہ ایک مسجد میں نمازیوں کی تعداد کافی زیادہ ہو گئی تھی۔ جگہ کم پڑنے کے سبب کچھ لوگ قریب کی دوسری مسجد میں چلے گئے تاکہ نماز پڑھ سکیں۔ لیکن مسجد انتظامیہ نے انھیں واپس جانے کو کہہ دیا۔

<div class="paragraphs"><p>نمازِ جمعہ کے وقت مسجد کے باہر تعینات پولیس اہلکار، علامتی تصویر</p></div>

نمازِ جمعہ کے وقت مسجد کے باہر تعینات پولیس اہلکار، علامتی تصویر

 

تصویر عارف عثمانی

مغربی بنگال کے کولکاتا میں نمازِ جمعہ کے دوران تصادم کی خبروں نے ہلچل پیدا کر دی ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ مسلم طبقہ کا تصادم کسی دوسرے مذہبی طبقہ سے نہیں ہوا ہے، بلکہ تصادم مسلمانوں کے ہی 2 گروپ کے درمیان ہوا ہے، وہ بھی نماز کی ادائیگی کو لے کر۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ جمعہ کے روز اس وقت کشیدگی والی حالت پیدا ہو گئی جب ایک مسجد کی انتظامیہ نے نمازیوں کو دوسری مسجد میں جا کر نماز پڑھنے کے لیے کہا۔

Published: undefined

ہندی نیوز پورٹل ’ٹی وی 9 بھارت وَرش‘ کی رپورٹ کے مطابق معاملہ بھیڑ بھاڑ والے علاقہ راجہ بازار کا ہے۔ وہاں جمعہ کی نماز کے دوران بڑی تعداد میں نمازی جمعہ ہو گئے تھے۔ حالات کچھ دیر کے لیے کشیدہ ہو گئے، حالانکہ بعد میں پولیس اور مقامی لوگوں کی مدد سے حالات پر قابو پا لیا گیا۔ اس تصادم کے بعد علاقے میں پولیس فورس کی بڑی تعداد تعینات کر دی گئی ہے۔ پورا علاقہ ایک طرح سے پولیس چھاؤنی میں تبدیل ہو گیا ہے اور حالات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

Published: undefined

موصولہ خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ علاقہ کی ایک مسجد میں نمازیوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی تھی۔ مسجد میں جگہ کم پڑنے لگی تو کچھ لوگ قریب کی دوسری مسجد کی طرف چلے گئے تاکہ نمازِ جمعہ ادا کر سکیں۔ جب دوسری مسجد کی انتظامیہ سے جڑے لوگوں کو یہ خبر ملی تو انھوں نے نمازیوں کو پہلی مسجد میں واپس جانے کے لیے کہا۔ اسی بات پر مسجد انتظامیہ اور نمازیوں میں بحث شروع ہو گئی۔

Published: undefined

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ سڑک پر بھی نماز ادا کرنے لگے تھے، جس سے حالات کشیدہ ہو گئے۔ اسی دوران پولیس موقع پر پہنچی اور لوگوں سے سڑک پر نماز نہ پڑھنے کی اپیل کی۔ پولیس کی مداخلت کے بعد ماحول مزید گرم ہو گیا اور کچھ دیر کے لیے افرا تفری جیسی حالت بن گئی۔ وہاں موجود لوگوں میں دھکا مکی اور زوردار بحث بھی دیکھنے کو ملی۔ حالانکہ پولیس نے فوراً حالات کو سنبھال لیا اور دونوں فریقوں کو خاموش کرایا۔ مقامی انتظامیہ اور سینئر پولیس افسران نے لوگوں سے صبر بنائے رکھنے کی اپیل کی۔ کچھ وقت بعد بھیڑ بھی منتشر ہوئی اور حالات معمول پر آ گئے۔

Published: undefined

پولیس افسران کا کہنا ہے کہ وقت رہتے معاملے کو رفع دفع کرا دیا گیا۔ اس واقعہ میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ احتیاطاً علاقہ میں اضافی پولیس فورس کی تعیناتی کر دی گئی ہے۔ اس واقعہ کے بعد راجہ بازار علاقہ میں کچھ وقت تک کشیدگی کا ماحول بنا رہا، لیکن بعد میں حالات پوری طرح قابو میں آ گئے۔ پولیس اب پورے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور علاقہ میں نگرانی بھی بڑھا دی گئی ہے۔ انتظامیہ نے لوگوں سے کسی بھی افواہ پر توجہ نہ دینے کی اپیل کی ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined