
کرن رجیجو / آئی اے این ایس
نئی دہلی: مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں پیش ہونے والے اہم بلوں کی حمایت کریں، کیونکہ قومی مفاد اور ملک کی ترقی کے لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ فیصلے کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ ملک کے مختلف حصوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور پارلیمنٹ میں پہنچ کر قومی ترقی اور عوامی مفاد کے لیے مل کر فیصلے کرتے ہیں۔
Published: undefined
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کرن رجیجو نے شیو سینا (ادھو ٹھاکرے دھڑا) کے رہنما سنجے راؤت کے ان الزامات پر بھی ردعمل ظاہر کیا، جن میں انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر گندی سیاست کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ کرن رجیجو نے کہا کہ ہر رکن پارلیمنٹ اپنے حلقے، اپنے سیاسی مستقبل اور ذاتی ترقی کے بارے میں سوچتا ہے۔ ایسے میں شیو سینا کے ارکان کو کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں، اس پر وہ کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔
Published: undefined
انہوں نے کہا کہ سنجے راؤت کس کے خلاف کیا زبان استعمال کر رہے ہیں، اس پر ردعمل دینا مناسب نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق پارلیمنٹ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے ملک کے مفاد میں متحد ہو کر فیصلے کرتے ہیں اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اہم معاملات پر تمام جماعتوں سے تعاون کی درخواست کرے۔
مرکزی وزیر نے حلقہ بندی سے متعلق مجوزہ قانون اور خواتین کے لیے ریزرویشن سے متعلق قانون سازی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل خواتین کے لیے ریزرویشن کا بل دو تہائی اکثریت نہ ملنے کی وجہ سے منظور نہیں ہو سکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بعض آئینی تقاضوں کی وجہ سے اس نوعیت کے بلوں کے لیے وسیع حمایت ضروری ہوتی ہے، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ ملک کی خواتین کو انصاف اور مناسب نمائندگی فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔
Published: undefined
کرن رجیجو نے کہا کہ وہ مسلسل اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کرتے رہے ہیں کہ خواتین سے متعلق قانون سازی سمیت دیگر اہم بلوں کی حمایت کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات سیاسی مفادات سے بالاتر ہیں اور ان کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے، اس لیے تمام جماعتوں کا تعاون ناگزیر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملاقاتیں بھی کی گئی تھیں، جن میں سماجوادی پارٹی بھی شامل تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ شاید سماجوادی پارٹی نے کانگریس کے دباؤ میں آکر اس بل کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم انہیں امید ہے کہ آنے والے دنوں میں تمام سیاسی جماعتیں قومی مفاد اور خواتین کی ترقی سے متعلق قانون سازی کی حمایت کریں گی۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined