قومی خبریں

پرویش ورما کے تھپڑ واقعہ پر کھڑگے کی بی جے پی-آر ایس ایس پر سخت تنقید، کہا- ’عوام پر کیا جا رہا براہِ راست حملہ‘

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے پرویش ورما کے تھپڑ واقعہ پر بی جے پی-آر ایس ایس کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عوام کے سوالوں کا جواب اب تھپڑ، لاٹھی اور گولی سے دیا جا رہا ہے

<div class="paragraphs"><p>کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے / ویڈیو گریب</p></div>

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے / ویڈیو گریب

 

نئی دہلی: دہلی کے وزیر پرویش صاحب سنگھ ورما کی جانب سے ایک نوجوان کو تھپڑ مارنے کی ویڈیو پر سیاسی تنازعہ بڑھتا جا رہا ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے پیر کو اس معاملہ کو لے کر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور آر ایس ایس پر سخت تنقید کی اور کہا کہ حکومت مخالف آوازوں سے نمٹنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’’اپوزیشن پر ای ڈی-سی بی آئی، عوام پر تھپڑ، لاٹھی اور گولی!‘‘ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی بی جے پی عوام کے سوالوں سے اتنی گھبرا گئی ہے کہ ’ناراض پھوپھا‘، ’دماغی نکسل‘ اور ’آندولن جیوی‘ جیسے الفاظ بھی اب پھیکے پڑ رہے ہیں۔

کانگریس صدر نے کہا کہ ’’بی جے پی-آر ایس ایس براہ راست تشدد پر اتر آئی ہے۔‘‘ انہوں نے دہلی کے وزیر کی جانب سے نوجوان کو تھپڑ مارنے کے واقعہ کے علاوہ جنتر منتر پر نوجوانوں پر لاٹھی چارج، کسان تحریک اور گجرات کے اونا میں دلتوں کے ساتھ پیش آئے واقعات کا بھی حوالہ دیا۔

کھڑگے نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ اقتدار کا تکبر جب عروج پر ہوتا ہے تو عوام کی سرعام تذلیل اور دباؤ بنانا معمول بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس صرف پالیسیوں کے ذریعے جمہوریت کو متاثر نہیں کر رہے بلکہ اب لاٹھی اور ڈنڈے کے ذریعے عوام پر براہِ راست حملہ کیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ پرویش ورما سے وابستہ تھپڑ کا واقعہ کل یعنی 27 ستمبر کو دہلی کے تلک نگر علاقے میں سڑک کی تعمیر کے معائنے کے دوران پیش آیا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں دہلی حکومت کے پی ڈبلیو ڈی وزیر پرویش ورما ایک نوجوان کا موبائل نیچے کرتے اور اس کے بعد اسے تھپڑ مارتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ واقعہ کے بعد عام آدمی پارٹی نے وزیر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

پرویش ورما نے واقعہ پر اپنی صفائی دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ موقع پر موجود عام آدمی پارٹی کے ایک کارکن نے ان کے خاندان کے بارے میں مبینہ طور پر نازیبا زبان استعمال کی، جس کے بعد وہ غصے میں آ گئے۔ انہوں نے اسے جذبات میں آ کر کیا گیا عمل قرار دیا ہے۔

دوسری جانب نوجوان کی جانب سے پولیس میں شکایت دیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ شکایت میں وزیر اور ان کے ساتھ موجود کچھ افراد پر مارپیٹ اور دھمکی دینے سمیت دیگر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پولیس کارروائی اور ایف آئی آر کے معاملے پر تازہ اطلاعات کے مطابق صورت حال زیرِ عمل ہے۔

اس معاملہ پر کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی بھی پہلے ہی ردعمل دے چکے ہیں۔ انہوں نے ایکس پر لکھا تھا کہ دہلی حکومت کے ایک وزیر ایک نوجوان کو تھپڑ مارتے ہوئے ویڈیو میں نظر آ رہے ہیں اور نوجوان کا ’جرم‘ یہ تھا کہ وہ ویڈیو بنا رہا تھا۔

راہل گاندھی نے واقعہ کو حکومت کے رویے سے جوڑتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اس اقتدار کا چہرہ ہے جسے اب ووٹر سے خوف محسوس ہونا بند ہو گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔