قومی خبریں

وزیر اعظم مودی کی تقریر بے بنیاد، اپوزیشن کے سوالوں کا جواب دینے کی ہمت نہ کر سکے: کھڑگے

کانگریس صدر کھڑگے نے وزیر اعظم مودی کی راجیہ سبھا میں 97 منٹ کی تقریر کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپوزیشن کے سوالات کا جواب نہیں دیا اور پارلیمنٹ جمہوری طریقے سے نہیں چلائی جا رہی

<div class="paragraphs"><p>ملکارجن کھڑگے / ویڈیو گریب</p></div>

ملکارجن کھڑگے / ویڈیو گریب

 

کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے جمعہ کو وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ راجیہ سبھا میں اپنی 97 منٹ کی تقریر میں انہوں نے کوئی ٹھوس حقیقت پیش نہیں کی اور اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے کسی بھی اہم سوال کا جواب نہیں دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت پارلیمنٹ کو جمہوری انداز میں چلانا نہیں چاہتی۔

Published: undefined

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ وزیر اعظم کی تقریر پر ردعمل دینا ضروری نہیں تھا، تاہم انہوں نے جو باتیں کہیں وہ قابل اعتراض تھیں، اس لیے جواب دینا ناگزیر ہو گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم اپنی تقریر میں حالیہ مسائل کے بجائے 100 سال، 75 سال اور 50 سال پرانی باتوں کو دہراتے رہے مگر اپوزیشن کے نکات کا براہ راست جواب دینے سے گریز کیا۔

Published: undefined

کھڑگے نے کہا کہ انہوں نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ایوانوں میں جو سوالات اٹھائے، ان کا جواب دینے کی ہمت وزیر اعظم میں نہیں تھی۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر وزیر اعظم یہ کہتے ہیں کہ انہیں دو دو کلو گالیاں دی جاتی ہیں تو کیا گالیاں بھی تولی جاتی ہیں؟

کانگریس صدر نے دفاعی وزیر راج ناتھ سنگھ اور حکومت کے دیگر نمائندوں کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنرل ایم ایم نرونے کی کتاب کے وجود سے انکار کیا گیا، حالانکہ کتاب موجود ہے۔ ان کے مطابق کتاب کے ہوتے ہوئے اس کی تردید کرنا ایوان کے استحقاق کی خلاف ورزی ہے۔

Published: undefined

کھڑگے نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم نے کانگریس پر سکھ برادری کی توہین کا الزام لگایا، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ کانگریس نے معروف ماہر معیشت منموہن سنگھ کو دو مرتبہ وزیر اعظم بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم سکھوں، دلتوں اور آدیواسیوں کا احترام نہیں کرتے۔

واضح رہے کہ راجیہ سبھا میں صدر جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ لوک سبھا میں اپوزیشن ارکان کی جانب سے پیدا کیا گیا ہنگامہ نہ صرف ایک آدیواسی اور خاتون صدر کی توہین ہے بلکہ ملک کے آئین اور اعلیٰ ترین آئینی عہدے کی بھی بے حرمتی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined