
کیرالہ کے وزیر اعلیٰ وی ڈی ستیسن / تصویر آئی اے این ایس
ترواننت پورم: کیرالہ میں وی ڈی ستیسن کی قیادت والی موجودہ حکومت نے سابق وزیرِ اعلیٰ پنرائی وجین کے دس سالہ دورِ حکومت کے دوران کیے گئے فیصلوں اور انتظامی اقدامات کی جانچ کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ میسی معاملے اور کیرالہ پبلک سروس کمیشن (پی ایس سی) کے امتحان میں بے ضابطگیوں سے شروع ہونے والی تحقیقات اب الاپّوزھا میں پولیس کی زیادتی، بلیچنگ پاؤڈر کی خریداری اور ریاستی ملکیت والی آیورویدک دوا ساز کمپنی ’اوشدھی‘ میں خریداری سے متعلق بے ضابطگیوں تک پہنچ گئی ہیں۔
کیرالہ میڈیکل سروسز کارپوریشن کے ذریعے بلیچنگ پاؤڈر کی خریداری میں 7.32 کروڑ روپے کی بے ضابطگی کی تحقیقات محکمۂ ویجیلنس کے سپرد کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ریاستی ملکیت والی آیورویدک دوا ساز کمپنی ’اوشدھی‘ میں 2.4 کروڑ روپے کی خریداری سے متعلق بے ضابطگیوں کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔
ان دونوں تحقیقات کا اعلان ایک روز قبل کیا گیا تھا۔ تاہم، ان کی اہمیت صرف الگ الگ معاملات تک محدود نہیں ہے۔ مسلسل نئی تحقیقات شروع کیے جانے سے یہ اشارہ مل رہا ہے کہ موجودہ حکومت سابق حکومت کے دور میں کیے گئے مالی اور انتظامی فیصلوں کی وسیع پیمانے پر جانچ کر رہی ہے۔
حکومت کے سامنے پہلے ہی کئی سیاسی طور پر حساس معاملات موجود ہیں۔ ان میں فٹبال اسٹار لیونل میسی اور ارجنٹینا کی قومی ٹیم کے مجوزہ کیرالہ دورے سے متعلق مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات بھی شامل ہیں۔ اس معاملے کی تحقیقات اے ڈی جی پی پی وجین کی سربراہی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم کر رہی ہے۔
اس کے علاوہ ایک الگ خصوصی تحقیقاتی ٹیم کیرالہ پبلک سروس کمیشن کے امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات کر رہی ہے۔ الاپّوزھا میں پولیس کی زیادتی کے الزامات کی جانچ کے لیے بھی الگ ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ حکومت نے الاپّوزھا، کوٹّایم اور ایرناکولم اضلاع میں ایکسائز افسران پر بار مالکان سے ہر ماہ رقم وصول کرنے کے الزامات کی ویجیلنس جانچ کا بھی حکم دیا ہے۔
اس طرح مختلف محکموں سے متعلق متعدد معاملات کی تحقیقات ایک ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔ حکومت کے اقدامات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ سابق حکومت کے دور میں کیے گئے مالی اور انتظامی فیصلوں سے متعلق الزامات کو مرحلہ وار جانچ کے دائرے میں لایا جا رہا ہے۔
ستیسن حکومت کے اقدامات کا موازنہ 2016 کے سیاسی واقعات سے بھی کیا جا رہا ہے۔ اس وقت اسمبلی انتخابات سے قبل بائیں بازو کی جماعتوں نے اُس وقت کی اومن چانڈی حکومت کے فیصلوں کے خلاف جارحانہ مہم چلائی تھی۔ اقتدار میں آنے کے بعد پنرائی وجین حکومت نے انتخابات سے قبل کے مہینوں میں کابینہ کے ذریعے کیے گئے فیصلوں کی گہری جانچ شروع کرائی تھی۔
ان فیصلوں کو بدعنوانی اور انتظامی بے ضابطگیوں کی مثال کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ تاہم بعد کی تحقیقات میں وہ وسیع سیاسی یا انتظامی جواب دہی سامنے نہیں آ سکی جس کا انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا گیا تھا۔
تقریباً ایک دہائی بعد کیرالہ کی سیاسی صورت حال بدل چکی ہے۔ وجین حکومت کو اقتدار سے باہر کرنے کے بعد اب ستیسن حکومت خصوصی تحقیقاتی ٹیموں اور ویجیلنس اداروں کے ذریعے سابق حکومت کے دور سے متعلق الزامات کی تحقیقات کرا رہی ہے۔
ان تحقیقات کا حتمی نتیجہ کیا نکلتا ہے اور الزامات ثابت ہوتے ہیں یا نہیں، اس کا فیصلہ تحقیقاتی اداروں اور عدالتوں کی سطح پر ہوگا۔ تاہم سیاسی طور پر ستیسن حکومت کا پیغام واضح ہے کہ وہ وجین حکومت کے دور میں کیے گئے فیصلوں کو مسلسل جانچ کے دائرے میں رکھ رہی ہے اور ہر نئی تحقیقات اس موقف کو مزید واضح کر رہی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔