قومی خبریں

ہادیہ معاملہ: کیا سپریم کورٹ کے پاس کوئی بہتر حل نہیں!

سب سے بدترین کام جو میں کرتا تو وہ یہ ہوتا کہ میں عدالت سے رجوع کرکے یہ ثابت کرتا کہ وہ ذہنی طور پر بیمار، پاگل یا پھربھٹکی ہوئی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا شفین جہاں اور ہادیہ

راجیو دھون

کیا ہم قرون وسطی میں رہ رہے ہیں؟ ہمارا آئین کہتا ہے ’’ تمام افراد کو اپنے عقیدے کا اظہار، آزادی اور آزادنہ طور پر اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے اور تبلیغ کرنے کا حق دیتا ہے۔‘‘ آج مجھے اگر مذہب اسلام میں داخل ہونا ہو تو مجھے داخل ہو نے کا حق ہے۔ میں نے مسیحی اسکول سے تعلیم حاصل کی ہے اور عیسائی مذہب کو اچھی طرح سمجھتا ہوں۔ میں تمام مذاہب کا احترام کرتا ہوں۔ کل اگر میری بیٹی بدھ، عیسائی یااسلام مذہب کو قبول کرنا اور کسی سے بھی شادی کرنا چاہے تو میں اس کے فیصلہ کا احترام کروں گا۔ سب سے بدترین کام جو میں کرتا تو وہ یہ ہوتا کہ میں عدالت سے رجوع کرکے یہ ثابت کرتا کہ وہ ذہنی طور پر بیمار، پاگل یا پھربھٹکی ہوئی ہے۔ ہم اس دور میں نہیں رہ رہےہیں جب کہ گیلیلیو کو اس بات کے لئے مجبور کیا گیا کہ وہ اپنی اس تحقیق کو خارج کر دے کہ زمین ایک سیارہ ہے۔

موجودہ کہانی کیرالہ کی اکھیلا نامی اس لڑکی سے متعلق ہے جس نے مذہب اسلام قبول کر لیا، شفین جہاں نامی ایک مسلم نوجوان سے شادی کر لی اور اپنا نام ہادیہ رکھ لیا۔ اگر وہ اغوا ہو چکی تھی تو اس کے والدین کو ہبیس کورپس (جسمانی طور پر پیش کرنا) کی عرضی داخل کرنی چاہیےتھی۔ اگر وہ زندہ اور صحت مند تھی تو پولس اور عدالت کا کام ختم ہو جاتا ہے۔ اگر اس کی موت ہو گئی ہوتی تو مجرمانہ تحقیقات کا معاملہ درج کرایا جانا چاہیےتھا۔ لیکن ایسا کوئی سانحہ پیش نہیں آیا اور ہادیہ زندہ اور صحت مند تھی اور شادی کر کے خوش تھی جس کے بعد اس معاملہ کو ختم ہو جاناچاہیے تھا۔اس کے والد اشوکن مطمعین تھے۔ اپنی سوچ میں گم، شاید ڈپریشن کی وجہ سے انہوں نے گھر پر لوگوں سے ملنا بند کر دیا تھا اور ان کو دھواں اڑانے اور جام میں سکون مل رہا تھااور وہ خود کو مرتد مانتے ہیں۔ ا س کی مذہبی بیوی وائیکوم کے شیوا مندر میں جا کر اس کے علاج اور حل کے لئے روئیں

لیکن لا دین باپ جنگ کو تیار تھا ’’ میں اسے واپس پانے کے حق کے لئےجدو جہد کرتا رہوں گا، اس کو ہادیہ سے واپس اکھیلا کے طور پر لاؤں گا ۔‘‘ تو ایک لادین شخص ہادیہ کو واپس ہندو بنانا چاہتا ہے(شاید اپنی بیوی کے لئے )۔یہ معاملہ گھر واپسی سے بھی کہیں آگے کا ہے جو کہ غیر آئینی ہونے کے ساتھ سماجی اور سیاسی سازش بھی نظرآتی ہے۔

میرا سوال ہے کہ کیا عدالت کو اس طرح سے استعمال کیا جا سکتا ہے؟ اس معاملہ میں ہبیس کورپس کی عرضی کا راستہ اختیار کیا گیا۔ یہ عرضی اس وقت داخل کی جاتی ہے جب پولس یا آرمی کی وجہ سے شخص غائب ہو گیا ہو یا پھر کوئی اسے تلاش نہ کر پا رہا ہو۔ ہبیس کورپس کی عرضی اس وقت ختم ہو جاتی ہے جیسے ہی جسمانی طور پر شخص (زندہ یا مردہ) مل جاتا ہے۔ عدالت اچھی طرح سے اس بات کا معائنہ کرتی ہے کہ فرد آزادی سے بات چیت کر رہا ہے اور اسے کسی طرح کے علاج کی ضرورت تو نہیں۔ اب دیکھتے ہیں کیرالہ ہائی کورٹ نے اپنے 24 مئی 2017 کے فیصلے میں کیا کیا۔ یہ بات پوری طرح واضح ہو چکی ہے کہ ’’لڑکی نے دوسرے مذہب سے وابستہ شخص سے محبت کی اور وہ اس سے شادی کرنا چاہتی ہے جو کہ ایک عام بات ہے۔ ‘‘ قانون کے مطابق لڑکی کی مرضی کو قبول کرنا چاہیے۔ لیکن ایک اہم سوال یہ کھڑا ہوتا ہے کہ ان دونوں کو الگ کرنے کی اجازت آخر کس نے دی ۔وہیں سے تنازعات کی شروعات ہوتی ہے۔ ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق :

ہومیوپیتھی کا کورس کر رہی لڑکی کو پولس کی مدد سے والد کے حوالے کر دیا گیا۔

19 دسمبر 2016 میں کی گئی ان کی شادی کو منسوخ کر دیا گیا۔

لڑکی کے مذہب کی تبدیلی زبردستی تو نہیں کی گئی اس بات کا پتہ لگانے کے لئے ایک جانچ کا حکم دیا گیا ، یہ بھی کہا گیا کہ تبدیلی مذہب میں مشتبہ تنظیموں کا ہاتھ تو نہیں اس بات کا بھی پتہ لگایا جائے۔

جانچ کرنے والے افسر پر کارروائی کی جائے ۔

کیا کیرالہ ہائی کورٹ اس معاملہ میں صحیح ہے کہ ہبیس کورپس کی درخواست پر اس نے بین مذاہب شادی کو منسوخ قرا ردے دیا اور پچھلی جانچ کرنے والے افسر پر بھی کارروائی کرنے کا حکم دیا۔

ہبیس کورپس کا مقصد ’غیر قانونی طور پر کسی کو قید کرنے‘(یا پھر قتل کرنے )کے معاملہ میں صحیح نتیجہ تک پہنچے کا ہوتا ہے۔ پولس اور فوج کے علاوہ کھاپ پنچایت کا ایسا طریقہ ہو سکتا ہے۔ لیکن جیسے ہی ہادیہ مل گئی اور یہ ثابت ہو گیاکہ وہ اپنے تعلق سے فیصلہ خود لے سکتی ہے تو وہیں اس معاملہ کو ختم ہو جانا چاہیے تھا۔

سپریم کورٹ نے 30 اکتوبر 2017 کو یہ محسوس کیا کہ انڈوکٹرینائیزیشن کے معاملہ میں ہبیس کورپس کا دائرہ کافی بڑا ہے۔ سیدھے الفاظ میں کہیں تو یہ ہیبس کورپس کا معاملہ تھا ہی نہیں۔ ہیبس کورپس کے قانون کو از سر نو لکھا گیا تھا۔ معاملہ کی سماعت کے دوران اس کے شوہر کی بد نیتی اور اس کے پاپولر فرنٹ کے ساتھ تعلقات زیادہ اہم ہو گئے۔ اگر شوہر نے کوئی غیر قانونی کام کیا ہے تو اس پر کارروائی کی جانی چاہیے نہ کہ ہادیہ پر۔ 16 اگست 2017 کو این آئی اے نے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی نگرانی میں اس معاملہ سے وابستہ ہو گئی اور تفتیش ابھی جاری ہے۔

لیکن سپریم کورٹ کی طرف سے 27.11.2017 کو سماعت کے بعد جوعمل اختیار کیا گیا اس میں اکھیلا عرف ہادیہ سے بات چیت کی گئی ۔ اکھیلا نے اب اپنا نام ہادیہ رکھ ہوا ہے عدالت نے خلاصہ کے دوران ہادیہ سچ بول رہی ہے یا نہیں اس بابت پر سوال اٹھایا ۔ وہ تعلیم یافتہ ہے، ہومیوپیتھی کی پڑھائی کر رہی تھی۔حالانکہ جج بھی تعلیم یافتہ ہیں اور پوچھ گچھ کے اہل ہیں۔ لیکن خود ساختہ ماہرین کی طرح انہوں نے اسے اس کے ہاسٹل بھیج دیا، حفاظت فراہم کی اور این آئی اے کو تفتیش جاری رکھنے کی ہدایت دی۔

کیا یہ معاملہ کا انجام ہے؟پہلے انڈوکٹرینایزیشن کے معاملہ میں ہبیس کورپس کے قانون کا سہارا لیا گیا ؟۔ دوسری بات یہ کہ کیا اسے کسی خاتون پر استعمال کیا جا سکتا ہے ؟جس نے تبدیلی مذہب کیا ہو۔ تیسرے یہ کہ ان دونوں نے اپنی مرضی سے(جو عاقل و بالغ) شادی کی ہے ،کیا ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ اس شادی کو منسوخ کر سکتا ہے؟۔ چوتھے بیجا الزامات کی بنیاد پر کیا سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی نگرانی میں این آئی اے کو تفتیش کے لئے مقرر کیا جاسکتا ہے؟ پانچویں کیا جج کے ساتھ چیمبر میں مختصر سی ملاقات کے بعدایک جوان لڑکی کے مستقبل کو تعطل کی نذر کیا جا سکتاہے؟ چھٹے کیا ہر ایسے معاملہ میں جب کوئی ہندو لڑکی تبدیلی مذہب کرے گی تو عدالت اس پر سماعت کرےگا؟ ساتویں کیا شادی منسوخ ہو سکتی ہے؟

سپریم کورٹ نے جو قدم اٹھایا ہے اچھے سے اچھا ،اسے اٹھانے سے گریز کرے گا۔ ایک غیر جانب دار اور آزاد مبصر نے اس معاملہ میں ہندوتوا کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا۔ سختی نہیں بلکہ انکساری ایک منصف کی اصل خصوصیت ہوتی ہے۔

Published: 04 Dec 2017, 11:01 AM IST

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 04 Dec 2017, 11:01 AM IST