
آئی اے این ایس
ترواننت پورم: کیرالہ میں اسمبلی انتخابات میں کامیابی کے بعد کانگریس جمعرات کو اپنے نومنتخب اراکین اسمبلی کی پہلی باضابطہ میٹنگ منعقد کرے گی۔ ترواننت پورم میں ہونے والے اس اجلاس کو نئی حکومت کی تشکیل کے عمل کا اہم مرحلہ مانا جا رہا ہے۔ کانگریس کی قیادت والا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ تقریباً ایک دہائی بعد ریاست میں اقتدار میں واپس آیا ہے، جس کے بعد پارٹی کے اندر سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔
Published: undefined
ریاستی کانگریس صدر سنی جوزف نے بتایا کہ کانگریس قانون ساز پارٹی کی میٹنگ جمعرات کی صبح ساڑھے دس بجے پارٹی ہیڈکوارٹر میں ہوگی۔ اجلاس میں نومنتخب اراکین اسمبلی شرکت کریں گے اور نئی حکومت کی تشکیل سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ انتخابی کامیابی کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا جب تمام منتخب اراکین ایک ساتھ بیٹھ کر آئندہ کی حکمت عملی پر غور کریں گے۔
Published: undefined
کانگریس نے اس بار اسمبلی انتخابات میں 63 نشستیں حاصل کی ہیں، جس کے بعد پارٹی مضبوط پوزیشن میں آ گئی ہے۔ پارٹی قیادت چاہتی ہے کہ حکومت سازی کا عمل منظم انداز میں آگے بڑھے اور تمام فیصلے مشاورت کے ذریعے کیے جائیں۔ اسی مقصد کے تحت سینئر رہنماؤں کو بھی اس عمل میں شامل کیا گیا ہے۔
پارٹی کی جانب سے سینئر رہنما مکل واسنک اور اجے ماکن کو مبصر مقرر کیا گیا ہے۔ دونوں رہنما اجلاس کے دوران اراکین اسمبلی سے بات چیت کریں گے اور ان کی رائے پارٹی قیادت تک پہنچائیں گے۔ ذرائع کے مطابق اراکین اسمبلی سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کی جا سکتی ہیں تاکہ وہ آزادانہ طور پر اپنی بات رکھ سکیں۔
Published: undefined
کانگریس کے اندر اس وقت نئی حکومت کی تشکیل کو لے کر مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے۔ پارٹی قیادت کی کوشش ہے کہ تمام فیصلے اتفاق رائے سے ہوں تاکہ اقتدار میں واپسی کے بعد ایک مضبوط اور متحد حکومت قائم کی جا سکے۔ اسی لیے اجلاس کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔
سیاسی حلقوں کے مطابق جمعرات کی میٹنگ سے آئندہ سیاسی سمت کا ابتدائی اشارہ مل سکتا ہے۔ اگرچہ تمام فیصلوں کا اعلان فوری طور پر متوقع نہیں ہے لیکن اس اجلاس کے بعد حکومت سازی کے عمل میں مزید تیزی آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ کانگریس کارکنان اور اتحادی جماعتیں بھی اس اجلاس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ اسی کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کا اگلا مرحلہ شروع ہوگا۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined