قومی خبریں

’یونیفارم گولڈ پرائس‘ نافذ کرنے والی ہندوستان کی پہلی ریاست بنا کیرالہ، اب سبھی دکانوں پر سونے کی ہوگی یکساں قیمت

یونیفارم گولڈ پرائس نافذ ہونے کے بعد اب کیرالہ میں سونے کی قیمتیں بینک شرح کے مطابق ہی طے ہوں گی، اس کے تحت سونے کے زیورات سبھی شہروں کی ہر دکان پر یکساں قیمت میں ہی فروخت ہو سکیں گے۔

سونے کی قیمت
سونے کی قیمت 

اگر آپ کو سونے کے زیورات خریدنے ہوتے ہیں تو الگ الگ شہروں میں سونے کی الگ الگ قیمت کے سبب زیورات کی قیمت بھی الگ الگ دینی ہوتی ہے۔ لیکن کیرالہ اب ایسا نہیں ہوگا۔ اس ریاست میں آپ کسی بھی شہر اور کسی بھی دکان میں چلے جائیں، سونے کی قیمت یکساں ہوگی۔ ایسا اس لیے کیونکہ کیرالہ میں ’یونیفارم گولڈ پرائس‘ کا نفاذ ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کیرالہ ملک کی ایسی پہلی ریاست بن گئی ہے جہاں یونیفارم گولڈ پرائس نافذ ہوا ہے۔

Published: undefined

قابل ذکر بات یہ ہے کہ یونیفارم گولڈ پرائس نافذ ہونے کے بعد اب کیرالہ میں سونے کی قیمتیں بینک شرح کے مطابق ہی طے ہوں گی۔ اس کے تحت سونے کے زیورات سبھی شہروں کی ہر دکان پر یکساں قیمت میں ہی فروخت ہو سکیں گے۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ اصول صرف 916 کی شفافیت والے 22 کیریٹ سونے پر ہی نافذ ہوگا۔ یعنی اس سے کم کیریٹ والے سونے کی قیمت اب بھی کیرالہ کے الگ الگ شہروں میں الگ الگ ہی ہوگی۔

Published: undefined

کیرالہ کے اہم جویلرس یعنی مالابار گولڈ اینڈ ڈائمنڈس، جویالوکس اور کلیان جویلرس نے گزشتہ ہفتہ بینک شرح کی بنیاد پر گاہکوں کو ایک ہی شرح پر سونا دستیاب کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ سونے کی خرید و فروخت کے معاملے میں کیرالہ ہندوستان میں اول مقام پر ہے اور یہاں پر سب سے زیادہ سونے کی خریداری ہوتی ہے۔ اس وقت شادیوں کا سیزن ہے، اور اس لیے سبھی شہروں میں یکساں قیمت پر سونا ملنا گاہکوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔

Published: undefined

بہرحال، انڈیا بلین اینڈ جویلرس ایسو سی ایشن کی طرف سے بھی اس بات کی جانکاری دی گئی ہے کہ سونے کی یکساں شرح شروع کرنے والا کیرالہ ملک کی پہلی ریاست ہے۔ اس سے قبل کیرالہ میں وَن انڈیا وَن گولڈ ریٹ پالیسی کو لے کر گزشتہ ہفتہ مالابار گروپ کے سربراہ ایم پی احمد نے کہا تھا کہ یہ قدم ریاست بھر میں گولڈ کسٹمرس کے مفادات کی حفاظت کرنے اور قیمتوں میں شفافیت لانے میں مدد کرے گا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined