قومی خبریں

کشمیر: جامع مسجد سرینگر میں 17 ویں جمعے بھی نماز ادا نہ کی جا سکی

وادی کشمیر میں اضطرابی کیفیت کے بیچ جہاں شہر سری نگر کے تمام علاقوں میں بازار نصف دن تک کھلے رہے وہیں پائین شہر کے نوہٹہ میں واقع تاریخی جامع مسجد میں مسلسل 17 ویں جمعے بھی نماز جمعہ ادا نہیں کی گئی

فائل تصویر (یو این آئی)
فائل تصویر (یو این آئی) 

سری نگر: وادی کشمیر میں 117 دنوں سے جاری غیر یقینی صورتحال اور اضطرابی کیفیت کے بیچ جمعہ کے روز جہاں شہر سری نگر کے تمام علاقوں میں بازار نصف دن تک کھلے رہے وہیں پائین شہر کے نوہٹہ میں واقع تاریخی جامع مسجد میں مسلسل 17 ویں جمعے کو بھی نماز جمعہ ادا نہیں کی گئی۔

بتادیں کہ مرکزی حکومت کے پانچ اگست کے جموں کشمیر کو دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کی تنسیخ اور ریاست کو دو وفاقی حصوں میں منقسم کرنے کے فیصلے کے خلاف وادی میں غیر اعلانیہ ہڑتال کا لامتناہی سلسلہ جاری ہوا تھا جو ہنوز جاری ہے۔

Published: 29 Nov 2019, 5:32 PM IST

وادی میں جمعہ کے روز جہاں سری نگر کے پائین وبالائی علاقوں میں نصف دن تک تمام بازار کھلے رہے وہیں دیگر ضلع صدر مقامات وقصبہ جات میں بازار کہیں نصف دن تک تو کہیں نصف دن کے بعد کھل گئے۔ ادھر پائین شہر کے نوہٹہ میں واقع وادی کے سب سے قدیم معبد جامع مسجد میں مسلسل 17 ویں جمعے کو بھی نماز جمعہ ادا نہیں کی گئی۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ اگرچہ صبح کے وقت جامع مارکیٹ میں تمام دکان کھلے تھے لیکن بارہ بجنے سے قبل ہی وہ بند ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ جامع کے گرد پیش سیکورٹی کا حصار حسب دستور قائم تھا۔

Published: 29 Nov 2019, 5:32 PM IST

قابل ذکر ہے جامع مسجد کے امام حی سید احمد سعید نقشبندی نے گزشتہ روز یو این آئی اردو کو بتایا کہ جامع مسجد کے گرد وپیش سیکورٹی حصار کے پیش نظر جامع میں فی الوقت نماز جمعہ کی ادائیگی ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب جامع مسجد کے ارد گرد سیکورٹی حصار کو ہٹایا جائے گا تب جامع میں نماز جمعہ کی ادائیگی بحال ہوگی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جامع مسجد کے گرد وپیش تمام پابندیاں ہٹائی جاچکی ہیں اور نماز جمعہ کی ادائیگی پر کسی قسم کی کوئی پابندی عائد نہیں ہے۔

Published: 29 Nov 2019, 5:32 PM IST

تاریخی جامع مسجد سری نگر کو سن 2016ء میں حزب المجاہدین کے معروف کمانڈر برہان مظفر وانی کی ہلاکت کے بعد 19 ہفتوں تک مقفل رکھا گیا تھا۔ کشمیر انتظامیہ نے تب جامع مسجد کو جولائی کے پہلے ہفتے میں مقفل کیا تھا اور انیس ہفتوں تک مقفل اور سیکورٹی فورسز کے محاصرے میں رہنے کے بعد اسے قریب پانچ ماہ بعد 25 نومبر کو جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ 19 ویں صدی میں اس تاریخی مسجد کو سکھ حکمرانوں نے 1819ء سے 1842ء تک مسلسل 23 برسوں تک بند رکھا تھا۔ حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میر واعظ مولوی عمر فاروق جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد خصوصی خطبہ دیا کرتے تھے تاہم ان کی لگاتار نظر بندی سے یہ سلسلہ مسلسل معطل ہے۔

Published: 29 Nov 2019, 5:32 PM IST

وادی کی تمام سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کی نقل وحمل بدستور جاری وساری ہے اگرچہ نجی گاڑیوں کی آمد رفت زیادہ ہی ہے لیکن پبلک ٹرانسپورٹ میں بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ درج کیا جارہا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق کئی روٹس پر پرائیویٹ اسکولوں کی گاڑیاں بھی نمودار ہونے لگی ہیں۔ وادی میں اگرچہ فون خدمات اور ریل سروس کی بحالی سے لوگوں کے مشکلات کا کسی حد ازالہ ہوگیا ہے لیکن انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس خدمات کی مسلسل معطلی لوگوں بالخصوص صحافیوں، طلبا اور تاجروں کے لئے سوہان روح بن گئی ہے۔

Published: 29 Nov 2019, 5:32 PM IST

کشمیر ایڈیٹرس گلڈ نے بھی انتظامیہ پر کشمیر میں کم سے کم براڈ بینڈ انٹرنیٹ کی بحال کرنے پر زور دیا ہے۔ گلڈ نے ایک بیان میں بتایا کہ کشمیر میں انٹرنیٹ خدمات پر جاری پابندی سے صرف میڈیا ہی نہیں بلکہ سماج کے دیگر شعبے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ادھر وادی کے مین اسٹریم سیاسی جماعتوں سے وابستہ بیشتر لیڈران جن میں تین سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی بھی شامل ہیں، پانچ اگست سے مسلسل نظر بند ہیں تاہم انتظامیہ نے سردی کے پیش نظر حال ہی میں 33 لیڈروں کو سنتورہوٹل سے ایم ایل اے ہوسٹل منتقل کیا۔ مزاحمتی لیڈران بشمول سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق بھی مسلسل خانہ یا تھانہ نظر بند ہیں۔

Published: 29 Nov 2019, 5:32 PM IST

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 29 Nov 2019, 5:32 PM IST