سری نگر: وادی کشمیر میں اگرچہ انتطامیہ نے اسکولوں کے بعد کالجوں میں بھی درس وتدریس کا عمل بحال کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن سری نگر کے کچھ کالجوں کے اندر اب بھی سیکورٹی فورسز اہلکار ڈیرا زن ہیں جبکہ باہر سیکورٹی فورسز اہلکاروں کے بنکر تعمیر ہوئے ہیں جس سے طلبا بالخصوص طالبات کو پریشانیوں کا سامنا ہے۔
Published: 16 Oct 2019, 8:56 PM IST
بتادیں کہ مرکزی حکومت کی طرف سے پانچ اگست کے جموں کشمیر کو خصوصی درجہ عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کی منسوخی اور ریاست کو دو وفاقی حصوں میں منقسم کرنے کے اعلان سے قبل وادی میں سیکورٹی فورسز کی درجنوں اضافی کمپنیاں تعینات کی گئی تھیں جس کی وجہ سے یہاں عوامی اور سیاسی حلقوں میں سراسیمگی پھیل گئی تھی اور وادی میں چہار سو خوف وہراس کے بادل سایہ فگن ہوئے تھے۔
Published: 16 Oct 2019, 8:56 PM IST
موصولہ اطلاعات کے مطابق سری نگر میں قائم ایس پی اسکول، ایس پی کالج، امرسنگھ کالج وغیرہ کے علاوہ قصبہ جات میں قائم کچھ کالجوں کے اندر سیکورٹی فورسز اہلکار ڈیرا زن ہیں جبکہ باہر سیکورٹی فورسز اہلکار کے بڑے بنکر لگے ہوئے ہیں۔ والدین کے ایک گروپ نے یو این آئی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ جب کالجوں کے اندر اور باہر بھی سیکورٹی فورسز اہلکار ڈیرا زن ہیں تو ایسی صورتحال میں ہم کیسے بچوں کو کالج بھیج سکتے ہیں۔
Published: 16 Oct 2019, 8:56 PM IST
محمد فاروق نامی ایک والد نے کہا کہ کہ 'میری بیٹی ایک کالج میں زیر تعلیم ہے اس کالج کے اندر بھی سیکورٹی فورسز اہلکار ڈیرا زن ہیں اور باہر بھی ایک بڑا بنکر لگا ہوا ہے تو میں ایسے حالات میں بیٹی کالج بھیجنے کا رسک نہیں لے سکتا، شاید ہی کوئی ایسا والد ہوگا جو ایسا کرے گا، میں بیٹی کو تعلیم سے محروم رکھنا برداشت کروں گا لیکن ایسے حالات میں اس کو کالج نہیں بھیج سکوں گا'۔
Published: 16 Oct 2019, 8:56 PM IST
ایک طالب علم نے اپنا نام مخفی رکھنے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ 'میرے کالج کے اندر بھی سیکورٹی فورسز اہلکار ڈیرا لگائے ہوئے ہیں اور باہر بھی ایک بڑا بنکر لگا ہوا جیسے ہمیں کالج نہیں بلکہ ایک فوجی کیمپ میں داخل ہونا ہے تو ایسے حالات میں ہم کیسے کلاسز لے سکتے ہیں، ہماری پڑھائی پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے'
Published: 16 Oct 2019, 8:56 PM IST
موصوف طالب علم نے کہا کہ طلبا کالج جانے میں ڈر محسوس کررہے ہیں خاص کر طالبات کالج جانا ہی نہیں چاہتی ہیں ایسا لگتا ہے کہ سیکورٹی فورسز کو ہماری حرکات پر نظر رکھنے کے لئے تعینات کیا گیا ہے۔ ایک اسکالر نے کہا کہ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ان کالجوں کو پہلے سیکورٹی فورسز کی موجودگی سے خالی کرے جن میں سیکورٹی فورسز اہلکار موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 'انتظامیہ کی طرف سے کالجوں کو کھولنا ایک مستحسن اور حوصلہ افزا قدم ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ انتظامیہ پہلے ان کالجوں سے جن میں سیکورٹی فورسز اہلکار اندر یا باہر تعینات ہیں، کو ان سے خالی کرے تاکہ بچوں کی تعلیم میں کسی قسم کا خلل واقع نہ ہوسکے'۔
Published: 16 Oct 2019, 8:56 PM IST
موصوف اسکالر نے مزید کہا کہ سیکورٹی فورسز کی موجودگی میں طلبا کا درس وتدریس کے عمل میں حصہ لینا بھی ناممکن ہے اور اگر کوئی حصہ لے گا بھی تو اس کی تعلیم متاثر ہوگی۔ قابل ذکر ہے وادی میں پانچ اگست سے تعلیمی سرگرمیاں مسلسل معطل ہیں اگرچہ انتظامیہ نے تعلیمی اداروں کے کھلنے کے اعلانات کیے ہیں لیکن کالجوں میں درس وتدریس کا سلسلہ بند ہے، عملہ تو حاضر رہتا ہے لیکن اسکولوں سے لے کر کالجوں تک طلبا کہیں نظر نہیں آتے ہیں۔
Published: 16 Oct 2019, 8:56 PM IST
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 16 Oct 2019, 8:56 PM IST