
سپریم کورٹ آف انڈیا
تمل ناڈو حکومت نے ستمبر 2025 میں کرور میں پیش آئے بھگدڑ میں جان گنوانے والوں کے اہل خانہ کو ہمدردانہ بنیادوں پر سرکاری ملازمت دینے کے اپنے فیصلے کو منسوخ کرنے والے مدراس ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ پہنچ گئی ہے۔ ریاستی حکومت نے مدراس ہائی کورٹ کی مدورئی بنچ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں خصوصی اجازت کی عرضی (ایس ایل پی) دائر کی ہے۔ ہائی کورٹ نے بھگدڑ کے متاثرین کے اہل خانہ کو دی گئی ہمدردانہ بنیادوں پر ملازمتوں کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔
27 جولائی کو دیے گئے اپنے فیصلے میں جسٹس سی وی کارتکین اور جسٹس آر شکتی ویل کی ڈویژن بنچ نے کہا تھا کہ انتظامی صوابدید (ایگزیکٹو ڈسکریشن) کا استعمال کرتے ہوئے اس طرح ہمدردانہ بنیادوں پر تقرریاں نہیں کی جا سکتیں، کیونکہ اس سے سرکاری ملازمتوں میں مساوات اور یکساں مواقع کی آئینی ضمانت کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ ہمدردانہ بنیادوں پر تقرری کا مقصد صرف ایسے سرکاری ملازم کے اہل خانہ کو فوری مالی امداد فراہم کرنا ہے، جس کی ملازمت کے دوران وفات ہو جائے۔ اسے کسی عوامی سانحے کے بعد عام بحالی کے اقدام کے طور پر نہیں مانا جا سکتا۔
ڈویژن بنچ نے کہا کہ ریاستی حکومت نے آئین کی دفعہ 162 کے تحت حاصل اپنی انتظامی اختیارات کی حد کی خلاف ورزی کی ہے۔ انتظامی اختیارات ہمیشہ دفعہ 14 اور 16 میں دیے گئے حقوق کے تابع رہنا چاہیے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر بھگدڑ کے متاثرین کے اہل خانہ کو ہمدردانہ بنیادوں پر ملازمت دی جاتی ہے تو وہ ایسے ہزاروں اہل درخواست گزاروں پر سبقت حاصل کر جائیں گے، جو پہلے ہی ہمدردانہ بنیادوں پر تقرری کے انتظار میں ہیں۔
مدراس ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا انتظامی اختیارات کا استعمال آئینی حدود کے اندر ہونا چاہیے۔ اگر انتظامی اقدامات کو کھلی چھوٹ دے دی جائے تو اس سے انتشار پھیل جائے گا۔ ہائی کورٹ نے سانحے اور متاثرہ خاندانوں کے لیے ریاستی حکومت کی ہمدردی اور تشویش کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مالی امداد یا دیگر ریلیف اقدامات فراہم کر سکتی ہے، لیکن بھرتیوں سے متعلق آئینی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرکاری ملازمتیں نہیں دی جا سکتیں۔
مدراس ہائی کورٹ کا فیصلہ تمل ناڈو حکومت کے اس اعلان کے تناظر میں آیا تھا، جس میں ستمبر 2025 میں کرور بھگدڑ میں ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ کو ہمدردانہ بنیادوں پر ملازمت دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ مدراس ہائی کورٹ نے اسے ہمدردانہ تقرریوں سے متعلق قائم شدہ قانونی اصولوں کے خلاف قرار دیا تھا۔ اب یہ معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہوگا، جہاں عدالت تمل ناڈو حکومت کی ’ایس ایل پی‘ پر سماعت کرے گی اور ہائی کورٹ کے اس حکم کی قانونی حیثیت کا جائزہ لے گی، جس کے ذریعے ہمدردانہ بنیادوں پر دی گئی تقرریاں منسوخ کی گئی تھیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔