
ڈی کے شیوکمار / آئی اے این ایس
بنگلورو: کرناٹک میں برسراقتدار کانگریس پارٹی نے مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کو ختم کرنے کے منصوبے کے خلاف منگل کو ’راج بھون چلو‘ مارچ نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ اس احتجاج کی قیادت نائب وزیر اعلیٰ اور کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ڈی کے شیوکمار کریں گے۔ انہوں نے بنگلورو میں پارٹی دفتر میں یومِ جمہوریہ کی تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ منریگا جیسے عوامی فلاحی قانون کو کمزور کرنا غریبوں کے حقِ روزگار پر براہِ راست حملہ ہے۔
Published: undefined
ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ مہاتما گاندھی کے نام سے جڑی اس اسکیم کے تحت دیہی علاقوں میں لاکھوں خاندانوں کو روزگار ملا ہے اور اسے ختم کرنے یا محدود کرنے کی کوئی بھی کوشش تشویش ناک ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس اس فیصلے کے خلاف صرف ریاست ہی نہیں بلکہ قومی سطح پر بھی جدوجہد کر رہی ہے اور کرناٹک میں ’راج بھون چلو‘ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
ان کے مطابق احتجاج کے بعد ریاست کے ہر تعلقہ میں کم از کم پانچ کلو میٹر طویل پیدل مارچ بھی نکالا جائے گا، جس میں ضلع وزرا، مقامی اداروں کے نمائندے اور کانگریس کارکن بڑی تعداد میں شامل ہوں گے۔ گرام پنچایت سطح پر بھی پارٹی کارکنوں کو متحرک رہنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ عوام کو منریگا کی اہمیت سے آگاہ کیا جا سکے۔
Published: undefined
شیوکمار نے دعویٰ کیا کہ کرناٹک حکومت منریگا کے تحت ہر سال تقریباً چھ ہزار کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے، جس سے دیہی معیشت کو سہارا ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مرکز اس اسکیم کے لیے مناسب فنڈ فراہم نہیں کرتا تو اس کا براہِ راست اثر ریاستوں اور دیہی مزدوروں پر پڑے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس اس معاملے کو ریاستی اسمبلی میں بھی اٹھائے گی اور بحث کے بعد ایک قرارداد منظور کرنے کی تیاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح زرعی قوانین کے خلاف مسلسل تحریک کے بعد مرکز کو فیصلہ واپس لینا پڑا تھا، اسی طرح منریگا کے معاملے میں بھی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
Published: undefined
بی جے پی اور جے ڈی ایس کی خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے شیوکمار نے کہا کہ دیہی علاقوں سے منتخب ہونے والے نمائندوں کو اس مسئلے پر بولنا چاہیے۔ انہوں نے منریگا کو آئینی حق قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک فیصلہ واپس نہیں لیا جاتا، کانگریس کی لڑائی جاری رہے گی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined