
تصویر سوشل میڈیا
بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ کنگنا رانوت ایک بار پھر اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے خبروں میں ہیں۔ اس بار انہوں نے زرعی قوانین کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے، جس پر کانگریس نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کنگنا نے ایک تقریب کے دوران کہا کہ 2021 میں واپس لیے گئے تین زرعی قوانین ملک کے کسانوں کے لیے ضروری ہیں اور انہیں خود ان قوانین کی واپسی کا مطالبہ کرنا چاہیے!
کنگنا نے مزید کہا کہ ملک کی ترقی میں کسانوں کا کردار نہایت اہم ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ کسان ان قوانین کی حمایت کے لیے آگے آئیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کے اس بیان پر تنازعہ ہو سکتا ہے، مگر وہ اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ ان قوانین کی بحالی سے کسانوں کو فائدہ ہوگا۔
اس بیان کے بعد کانگریس نے سخت ردِعمل دیا اور کہا کہ وہ کسانوں کے ساتھ ہیں اور ان قوانین کی بحالی کو روکنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔ کانگریس کی ترجمان سپریا شرینیت نے خاص طور پر کہا کہ ان قوانین کی مخالفت میں 750 سے زیادہ کسان اپنی جانیں گنوا چکے ہیں اور اب ان قوانین کی بحالی کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے سب سے پہلا جواب ہریانہ سے آئے گا۔
کانگریس کا کہنا ہے، ’’ہم کسانوں کے ساتھ ہیں۔ ان سیاہ قوانین کی کبھی واپسی نہیں ہوگی، چاہے نریندر مودی ان کے ارکان پارلیمنٹ کتنا بھی زور کیوں نہ لگا لیں۔‘‘
یاد رہے کہ یہ تینوں زرعی قوانین 2021 میں کسانوں کے شدید احتجاج اور دھرنوں کے بعد واپس لے لیے گئے تھے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے خود ان قوانین کی واپسی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد کسانوں نے اپنی تحریک ختم کی تھی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔