قومی خبریں

جسٹس اشونی کمار مشرا پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کے کارگزار چیف جسٹس مقرر

صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے جسٹس اشونی کمار مشرا کو پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کا کارگزار چیف جسٹس مقرر کیا ہے۔ جسٹس شیل ناگو کی سپریم کورٹ میں تقرری کے بعد یہ عہدہ خالی ہوا تھا

<div class="paragraphs"><p>جسٹس اشونی کمار مشرا / تصویر آئی اے این ایس</p></div>

جسٹس اشونی کمار مشرا / تصویر آئی اے این ایس

 

نئی دہلی: صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کے جج جسٹس اشونی کمار مشرا کو عدالت کا کارگزار چیف جسٹس مقرر کر دیا ہے۔ یہ تقرری جسٹس شیل ناگو کی سپریم کورٹ میں جج کے طور پر تقرری کے بعد عمل میں آئی ہے، جس کے نتیجے میں پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا عہدہ خالی ہو گیا تھا۔

Published: undefined

مرکزی وزارت قانون و انصاف کے محکمہ انصاف کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صدر جمہوریہ نے آئین ہند کے آرٹیکل 223 کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے جسٹس اشونی کمار مشرا کو پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کا کارگزار چیف جسٹس مقرر کیا ہے۔ آئینی ضابطوں کے مطابق کسی ہائی کورٹ میں چیف جسٹس کا عہدہ خالی ہونے کی صورت میں کارگزار چیف جسٹس کی تقرری ضروری ہوتی ہے تاکہ عدالتی اور انتظامی امور بلا رکاوٹ جاری رہ سکیں۔

پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق جسٹس اشونی کمار مشرا نے 21 جولائی 2025 کو الٰہ آباد ہائی کورٹ سے تبادلے کے بعد پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ میں اپنے فرائض سنبھالے تھے۔ 16 نومبر 1968 کو پیدا ہونے والے جسٹس مشرا نے دہلی یونیورسٹی کے کیروڑی مل کالج سے معاشیات میں بی اے آنرز کی ڈگری حاصل کی، جبکہ دہلی یونیورسٹی کے کیمپس لا سینٹر سے ایل ایل بی کی تعلیم مکمل کی۔

Published: undefined

انہوں نے 8 مئی 1993 کو وکیل کے طور پر رجسٹریشن کرایا اور بنیادی طور پر دیوانی، آئینی اور سروس قوانین سے متعلق مقدمات میں وکالت کی۔ اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کے دوران انہوں نے نوئیڈا، غازی آباد ترقیاتی اتھارٹی، الٰہ آباد ترقیاتی اتھارٹی، آئی ایف ایف سی او، انڈین آئل کارپوریشن اور اتر پردیش ودیوت نگم سمیت متعدد سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کی جانب سے عدالتوں میں نمائندگی کی۔ کئی اہم مقدمات میں انہوں نے ریاستی حکومت کی جانب سے سینئر وکیل کے طور پر بھی پیشی کی۔

سال 2013 میں انہیں سینئر ایڈووکیٹ نامزد کیا گیا۔ اس کے بعد 3 فروری 2014 کو وہ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج مقرر ہوئے، جبکہ یکم فروری 2016 کو مستقل جج بنا دیے گئے۔ انہوں نے 20 جولائی 2025 تک الٰہ آباد ہائی کورٹ میں خدمات انجام دیں، جس کے بعد ان کا تبادلہ پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ میں کر دیا گیا۔

Published: undefined

جسٹس اشونی کمار مشرا کے عدالتی کیریئر میں کئی اہم فیصلے شامل ہیں۔ ان کی بنچ نے 2005-06 کے نٹھاری قتل عام مقدمے میں قابل ذکر فیصلہ سنایا تھا، جسے عدالتی حلقوں میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ میں بطور جج انہوں نے غیر قانونی کان کنی کے خلاف سخت احکامات جاری کیے اور سروس و آئینی معاملات میں کئی اہم فیصلے سنائے، جنہیں عدالتی نظائر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق جسٹس مشرا کو عدالتی امور، آئینی معاملات اور انتظامی تجربے کے باعث ایک باصلاحیت جج تصور کیا جاتا ہے اور ان کی تقرری سے پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کے انتظامی و عدالتی امور کے تسلسل کو مزید تقویت ملنے کی امید ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined