
جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیرمین محمد یاسین ملک اور دوسرے علیحدگی پسند رہنماؤں کو، جنہیں پولس نے 10 دسمبر کو انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر گرفتار کرکے سری نگر سینٹرل جیل منتقل کیا تھا، کو ہفتہ کے روز ضمانت پر رہا کردیا۔
فرنٹ کے ایک ترجمان نے بتایا ’’اگرچہ گرفتار شدگان شبیر احمد ڈار، مشتاق اجمل، فاروق احمد سوداگر، رمیض راجہ، ظہور احمد بٹ، بشیراحمد کشمیری اور غلام محمد ڈار کو ذاتی مچلکے پر سری نگر جیل سے ہی رہا کردیا گیا لیکن حکام نے ملک کی اسیری کو طول دینے کی غرض سے اُن کے خلاف رام منشی باغ تھانے میں رجسٹر 2014 ء کے پرانے نامعلوم کیس کو نکال کر انہیں قید میں ہی رکھنے کی کوشش کی۔ ‘‘
ترجمان نے مزید کہا ’’ملک کو جیل سے رہا کردینے کی بجائے پولس نے انہیں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جہاں عدالت نے کیس کی سنوائی کے بعد انہیں ضمانت پر رہا کردینے کے احکامات جاری کردیے۔‘‘
ترجمان نے کہا کہ جے کے ایل ایف کے اراکین معراج الدین پرے اور مدثر احمد جنہیں کل پولس نے اننت ناگ میں گرفتار کیا تھا ابھی تک پولس حراست میں ہی ہیں اورانہیں ابھی تک رہا نہیں کیا گیا ہے۔
دریں اثناء حریت کانفرنس (ع) چیرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق جنہیں جمعہ کو پولس نے خانہ بندی توڑنے کے بعد حراست میں لےکر پولس تھانہ نگین منتقل کیا تھا، کو بھی رہا کیا گیا ہے۔
اپنی خبریں ارسال کرنے کے لیے ہمارے ای میل پتہ <a href="mailto:contact@qaumiawaz.com">contact@qaumiawaz.com</a> کا استعمال کریں۔ ساتھ ہی ہمیں اپنے نیک مشوروں سے بھی نوازیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 16 Dec 2017, 5:09 PM IST