قومی خبریں

جھارکھنڈ میں موسلادھار بارش سے سیلابی صورتِ حال، گنگا سمیت کئی ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر

جھارکھنڈ میں پانچ روز سے جاری موسلادھار بارش سے کئی اضلاع میں سیلابی صورتِ حال ہے۔ گنگا اور خرکئی سمیت کئی ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر ہیں، پل اور سڑکیں متاثر، امدادی کارروائیاں جاری ہیں

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

جھارکھنڈ میں گزشتہ پانچ روز سے جاری موسلادھار بارش نے کئی اضلاع میں معمولاتِ زندگی درہم برہم کر دیے ہیں۔ شدید بارش کے باعث ندیاں اپھان پر ہیں، متعدد پل تباہ یا متاثر ہو گئے ہیں جبکہ کئی اہم سڑکیں پانی میں ڈوب گئی ہیں۔ صاحب گنج، لاتیہار، گڑھوا، پلامو، سرائے کیلا-کھرسواں اور مشرقی سنگھ بھوم سمیت کئی اضلاع میں سیلاب جیسے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔

موسمیاتی مرکز رانچی نے یکم ستمبر کو گڑھوا، پلامو، چترا، لاتیہار، لوہردگا، گملا، رانچی، کھونٹی، سمڈیگا اور مغربی سنگھ بھوم کے لیے یلو الرٹ جاری کیا تھا۔ ان علاقوں میں بعض مقامات پر شدید بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

صاحب گنج میں گنگا کا پانی خطرے کے نشان 27.25 میٹر سے 0.46 میٹر اوپر، 27.71 میٹر پر بہہ رہا ہے۔ اگرچہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں پانی کی سطح میں معمولی کمی آئی ہے، تاہم دریائی کنارے کے علاقوں میں صورتِ حال اب بھی سنگین ہے۔ رام نگر، چانن اور سرپنا سمیت متعدد دیہات میں سیلابی پانی پھیلا ہوا ہے۔ راج محل کے موکیم پور اور بالو ٹولہ میں سیکڑوں گھروں میں پانی داخل ہوگیا، جس کے بعد لوگ کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔ ادھوا میں سیکڑوں ایکڑ فصلیں بھی زیر آب آگئی ہیں۔

ریاستی حکومت نے انتظامیہ کو الرٹ پر رکھا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی کیمپ قائم کیے گئے ہیں اور لوگوں کو خشک راشن، ترپال اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔ مویشیوں کے لیے بھی امدادی کیمپ بنائے گئے ہیں۔

لاتیہار میں مہواڈانڑ-میدینینگر شاہراہ پر راج ڈانڈا ندی کا تقریباً 55 سال پرانا پل تیز بہاؤ کے باعث منہدم ہوگیا، جس سے کئی علاقوں کا رابطہ متاثر ہوا ہے۔ گڑھوا میں بھی ٹکوا ندی پر بنا پل بہہ جانے سے متعدد دیہات کا بلاک ہیڈکوارٹر سے رابطہ ٹوٹ گیا۔

مشرقی سنگھ بھوم کے موسابنی میں ڈیم سے پانی چھوڑے جانے کے بعد شنکھ ندی میں طغیانی ہے اور بکرہ پل کے اوپر تقریباً چھ فٹ پانی بہہ رہا ہے۔ سرائے کیلا میں خرکئی ندی خطرے کے نشان سے 2.03 میٹر اوپر بہہ رہی ہے، جس کے بعد بعض ڈیموں کے دروازے کھول دیے گئے ہیں۔

جمشیدپور کے آدتیہ پور اور مانگو میں سوارن ریکھا اور خرکئی ندیوں کے بڑھتے پانی کے پیش نظر نشیبی علاقوں میں ہائی الرٹ جاری ہے۔ لاتیہار کے چھپاڈوہر میں سات مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئی ہیں۔ سیاحتی مقامات لودھ فال اور سگا ڈیم پر بھی پانی کی سطح بڑھنے کے باعث سیاحوں کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔