
وزیر اعلیٰ جھارکھنڈ ہیمنت سورین / ویڈیو گریب
رانچی: جھارکھنڈ میں سرکاری مسابقتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف جاری طلبہ کے احتجاج کے درمیان وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے پیر کو بڑا اعلان کیا۔ انہوں نے ٹی ڈی پی ایل کے ذریعے منعقد جے پی ایس سی-2014، جے پی ایس سی-2011-2013 اور جے ایس ایس سی-سی جی ایل امتحانات کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ ان امتحانات کے جاری کیے جا چکے نتائج بھی منسوخ کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی ٹی ڈی پی ایل کے ذریعے ان امتحانات میں منتخب ہونے والے تمام امیدواروں کا انتخاب بھی منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
قبل ازیں، راہل گاندھی نے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کو خط لکھ کر اپیل کی تھی کہ وہ رانچی میں احتجاج کرنے والے طلبا سے بذاتِ خود ملاقات کریں اور ان کی تشویش سنیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ کانگریس پُرامن احتجاج کے آئینی حق کو جمہوریت کا بنیادی ستون سمجھتی ہے اور پیپر لیک و تعلیمی نظام میں بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبا کی حمایت کرتی رہی ہے۔
یہ اعلان رانچی میں امیدواروں کے 24 روزہ احتجاج کے دوران سامنے آیا ہے۔ امیدوار امتحانات کے انعقاد میں شفافیت، مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات، متنازع امتحانات کی منسوخی اور مستقبل میں پیپر لیک اور دھاندلی روکنے کے لیے مؤثر نظام قائم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
طلبہ رہنما دیویندر ناتھ مہتو نے کہا کہ امتحانات کی منسوخی کے اعلان کے باوجود اصلاحات کے لیے ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے مطالبات لے کر آئے تھے اور اگر مطالبات پورے ہو جاتے ہیں تو آگے احتجاج کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ طلبہ سرکاری نوٹس کا انتظار کر رہے ہیں۔
مہتو نے کہا کہ ان کا مطالبہ ایسا نظام قائم کرنے کا ہے جس میں حکومت انہیں اس بات کی ضمانت دے کہ مستقبل میں دوبارہ پیپر لیک یا کسی طرح کی دھاندلی نہیں ہوگی۔ اس سے پہلے ریاستی حکومت ٹی ڈی پی ایل کے ذریعے منعقد امتحانات کی جانچ کرانے کی بات کہہ چکی تھی۔ اب وزیر اعلیٰ نے امتحانات، ان کے نتائج اور ان امتحانات کے ذریعے ہونے والے انتخاب، تینوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پیر کی دیر شام ریاستی سیکریٹریٹ میں پریس کانفرنس کے دوران ہیمنت سورین نے یہ بھی اعلان کیا کہ جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی میں اصلاحات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ اس کمیٹی کی سربراہی آئی اے ایس افسر امیتابھ کوشل کریں گے۔
وزیر اعلیٰ کے اعلان کو جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی امیدواروں کے طویل عرصے سے جاری احتجاج کے تناظر میں حکومت کا اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ امیدواروں کا احتجاج رانچی میں مسلسل جاری ہے اور وہ امتحانی عمل میں شفافیت اور مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔