قومی خبریں

گجرات کے بھج میں مساجد کے انہدام پر جمعیۃ علماء ہند متحرک، اعلیٰ سطحی وفد کا دورہ، قانونی کارروائی کا اعلان

گجرات میں مساجد، درگاہوں اور دیگر مذہبی املاک کے انہدام کے بعد جمعیۃ کے اعلیٰ سطحی وفد نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، مقامی افراد سے ملاقات کی اور قانونی چارہ جوئی کے لیے شواہد جمع کرنا شروع کر دئے

<div class="paragraphs"><p>تصویر پریس ریلیز</p></div>

تصویر پریس ریلیز

 

گجرات کے سرحدی ضلع کچھ (بھج) میں مساجد، درگاہوں اور دیگر مذہبی املاک کے انہدام کے معاملے پر جمعیۃ علماء ہند نے سرگرم ہوتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی وفد متاثرہ علاقوں میں روانہ کیا ہے۔ تنظیم نے اپنے ایک پریس بیان میں کہا کہ وہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے، قانونی حقائق جمع کرنے اور آئندہ کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے مقامی سطح پر مشاورت کر رہی ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے مطابق صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر تشکیل دیا گیا وفد ناظمِ عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی کی قیادت میں بھج پہنچا، جہاں اس نے حالیہ انہدام سے متاثر ہونے والی مسجد جونا کنڈلا کے ذمہ داران اور دیگر شہریوں سے ملاقات کی۔ وفد نے قانونی ماہرین اور سینئر وکلاء سے بھی مشاورت کی تاکہ ممکنہ قانونی راستوں اور آئندہ کے اقدامات پر غور کیا جا سکے۔

Published: undefined

وفد کو مقامی ذمہ داران نے بتایا کہ گاندھی دھام کی تاریخی مسجد جونا کنڈلا کو انتظامیہ نے منہدم کر دیا۔ مسجد کمیٹی کے صدر محمد سمار کے مطابق کارروائی سے قبل کوئی مؤثر نوٹس نہیں دیا گیا اور جب مقامی افراد نے اعتراض کیا تو پولیس نے انہیں موقع سے ہٹا دیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ مسجد 1965 سے سرکاری وقف ریکارڈ میں درج تھی اور اپنی منفرد طرزِ تعمیر کی وجہ سے بھی تاریخی اہمیت رکھتی تھی۔ اسی طرح آدی پور کی جامع مسجد بھی منہدم کیے جانے کی اطلاع ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے مطابق اب تک تقریباً 30 تعمیرات منہدم کی جا چکی ہیں، جن میں 11 مذہبی مقامات، 17 تجارتی تعمیرات اور دو رہائشی مکانات شامل ہیں۔ تنظیم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ احتجاج کرنے والے 25 نوجوانوں کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے۔

Published: undefined

وفد نے اپنے ابتدائی بیان میں کہا کہ اگر کوئی مسجد، درگاہ یا دیگر مذہبی مقام قانونی طور پر وقف ریکارڈ میں درج ہو تو اس کے خلاف کسی بھی انتظامی کارروائی سے قبل متعلقہ قوانین، قدرتی انصاف کے اصولوں اور آئینی تقاضوں پر مکمل عمل ضروری ہے۔ وفد کے مطابق مذہبی مقامات سے متعلق معاملات نہایت حساس ہوتے ہیں اور ایسے اقدامات قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی کیے جانے چاہییں تاکہ شہریوں کے مذہبی جذبات مجروح نہ ہوں اور قانون پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔

وفد کے ارکان نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ سرحدی علاقے کا حوالہ دے کر کی جانے والی کارروائی کی وجوہات واضح نہیں کی گئیں۔ ان کے مطابق اس معاملے میں تمام قانونی اور انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

Published: undefined

جمعیۃ علماء ہند نے متاثرہ افراد کو یقین دلایا کہ تنظیم ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قانونی چارہ جوئی کرے گی۔ وفد جلد ہی ضلع انتظامیہ سے ملاقات کرکے اپنا موقف پیش کرے گا، جبکہ اپنی تفصیلی رپورٹ صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کو پیش کرے گا، جس کے بعد آئندہ کے قانونی، تنظیمی اور عوامی اقدامات کا فیصلہ کیا جائے گا۔

وفد میں مولانا محمد حکیم الدین قاسمی، حاجی محمد ہارون، عتیق الرحمن قریشی، مولانا ابوالحسن پالن پوری سمیت جمعیۃ علماء ہند اور جمعیۃ علماء گجرات کے متعدد ذمہ داران شامل ہیں۔ وفد نے احمد آباد میں بھی قانونی ماہرین اور تنظیمی عہدیداروں کے ساتھ مشاورتی اجلاس منعقد کیا، جس میں آئندہ کی حکمت عملی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined